تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 484 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 484

تاریخ احمدیت۔جلد 24 مستورات سے خطاب 462 سال 1968ء دوسرے دن کے پہلے اجلاس میں حضور انور جلسہ گاہ مستورات تشریف لے گئے اور احمدی خواتین سے خطاب فرمایا جس میں حضور انور نے فرمایا کہ جماعت احمدیہ کے لئے سال رواں کا اہم ترین واقعہ مسجد نصرت جہاں کا افتتاح ہے۔یہ مسجد جس کی بناء خلافت ثانیہ میں رکھی گئی اور تکمیل خلافت ثالثہ میں ہوئی جماعت احمدیہ کی مستورات کی قربانی کا مظہر ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں اور قربانیوں کو قبول کر کے اس مسجد کو تبلیغ دین کا ایک مؤثر ذریعہ بنا دیا ہے۔اس قربانی کی قبولیت کے سینکڑوں نشانات ظاہر ہوئے۔اس سلسلہ میں حضور نے وہاں کی نو مسلم احمدی خواتین کے قابل رشک اخلاص کی متعدد مثالیں بیان فرمائیں اور بتایا کہ یہ تربیت محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہو سکتی ہے اس میں کسی انسانی ہاتھ کا دخل نہیں ہے۔فرشتوں نے ان کے دل کو دھو کر صاف کر دیا ہے اور شیطانی خیالات نکال کر ان میں خدا کی محبت بسادی ہے۔حضور نے فرمایا کہ ہماری قربانیوں کے پیچھے ایک چیز کام کر رہی ہوتی ہے وہ اخلاق حسنہ ہیں۔جب تک یہ اخلاق پوری طرح مضبوط نہ ہو جائیں کامیابی کا تصور محال ہے۔حضور انور نے مزید فرمایا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک ہر احمدی مرد و عورت کے دل میں نبی کریم ﷺ سے شدید جذبہ محبت وعقیدت پیدا نہیں ہو جاتا اس وقت تک ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔تمہارے دلوں میں کسی بھی رشتہ دار یا دنیا کی محبت خدا اور اس کے رسول سے زیادہ نہیں ہونی چاہئیے۔سو آج سے یہ عہد کر لو کہ تمہارے تمام تعلقات کی بنیاد محبت رسول پر ہوگی۔اگر یہ محبت تمہارے دلوں میں پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بے شمار انعامات اور فضلوں کا وارث کرے گا۔ایسے انعامات جن سے ہم بھی اور دنیا والے بھی حیران رہ جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ اس کی اور اس کے رسول کی محبت کے مقابلے میں دنیا کی تمام محبتیں سرد ہو جائیں۔دوسرے دن کا خطاب ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء کے دوسرے اجلاس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اپنی تقریر شروع کرنے سے قبل مجالس انصار اللہ اور مجالس خدام الاحمدیہ میں سے اول آنے والی مجالس کو اپنے دستِ