تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 485 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 485

تاریخ احمدیت۔جلد 24 463 سال 1968ء مبارک سے علم انعامی عطا فرمائے۔اس موقع پر مجلس انصار اللہ مرکزیہ کی طرف سے مولانا ابو العطاء صاحب نے اعلان فرمایا کہ کارکردگی کے لحاظ سے مجلس انصاراللہ پشاور اور مجلس انصار اللہ کراچی دونوں علم انعامی کی مستحق قرار دی گئی ہیں۔لہذا علم انعامی پہلے چھ ماہ مجلس انصار اللہ پشاور کے پاس رہے گا اور سال کے بقیہ چھ ماہ کراچی کی مجلس انصار اللہ کے سپر د ر ہے گا۔چنانچہ اس اعلان کے بعد حضور نے قائد صاحب مجلس پشاور اور قائد صاحب مجلس کراچی کو حکم انعامی عطا فرمایا۔اس کے بعد (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے اعلان فرمایا کہ ۶۷ ،۱۹۶۶ء میں بہترین کام کرنے کے لحاظ سے مجلس خدام الاحمدیہ لائکپور (فیصل آباد ) اول رہی ہے اور مجلس خدام الاحمدیہ کراچی دوم اور مجلس خوشاب سوم رہی ہے لہذا مجلس فیصل آباد کو علم انعامی کا مستحق قرار دیا گیا۔آپ نے اعلان فرمایا کہ مجلس کراچی، مجلس خوشاب اور مجلس پنڈی بھا گوضلع سیالکوٹ کوسندات خوشنودی کی مستحق قرار دیا گیا ہے چنانچہ حضور نے فیصل آباد کو اپنے دستِ مبارک سے علم انعامی عطا فرمایا اور مجلس کراچی، مجلس خوشاب اور مجلس پنڈی بھا گو کوسندات خوشنودی کا اعزاز حاصل ہوا۔اس کے بعد حضور انور نے تشھد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد دوران سال کی جماعتی سرگرمیوں جن میں اشاعتی ، مالی اور تبلیغی سرگرمیوں کا بطور خاص اپنے خطاب میں ذکر فرمایا۔سب سے پہلے حضور انور نے اشاعتی کام کا جائزہ پیش فرمایا جس میں جماعتی ادارہ جات اور تنظیموں کی طرف سے بعض کتب کی دوبارہ اشاعت کی گئی تھی۔دفتر اصلاح وارشاد کی طرف سے حضور انور کے بعض خطبات اور مضامین کو شائع کیا گیا۔جن میں تین اہم امور، قرآنی انوار تعمیر بیت اللہ کے تئیس عظیم الشان مقاصد اور مضمون امن کا پیغام شامل ہیں۔حضور انور نے جماعتی رسائل کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ احمدی احباب نوجوانوں اور بچوں کو ان سے فائدہ اٹھانا چاہئیے۔پھر تحریک وقف عارضی کے تحت ہونے والے کام کا ذکر فرمایا کہ ۲۰ ماہ پہلے میں نے یہ تحریک شروع کی تھی اور اب تک پانچ ہزار احباب جماعت نے وقف عارضی کی اور دو ہفتے کم از کم جماعتوں میں گزارے۔حضور نے تحریک وقف عارضی کو تربیتی لحاظ سے بڑا اہم منصوبہ قرار دیا اور فرمایا کہ اس طرف جماعت کو توجہ دینی چاہیئے اور آئندہ سال کے لئے کم از کم سات ہزار واقفین جماعت نے مجھے دینے ہیں۔اس کے بعد فضل عمر فاؤنڈیشن منصوبہ کے تحت جماعت کی طرف سے کی جانے والی مالی قربانیوں کا حضورانور