تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 483 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 483

تاریخ احمدیت۔جلد 24 461 سال 1968ء لا کر اجتماعی دعا کروائی۔انتظامی شعبوں کے معاینہ سے فارغ ہونے کے بعد حضور دار الصدر کے مرکزی لنگر خانہ نمبر اتشریف لے گئے۔جہاں لنگر خانہ کے ناظم محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ایم اے ( حال ناظر اعلیٰ صدرانجمن احمدیہ ) اور دیگر منتظمین نے حضور کا استقبال کیا۔حضور نے نصف گھنٹہ سے زائد عرصہ تک لنگر خانہ کے جملہ شعبوں اور انتظامات کا معاینہ فرما کر منتظمین کو قیمتی ہدایات سے نوازا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے ایمان افروز خطابات اس جلسہ کے تینوں دن حضور انور نے احباب جماعت سے خطاب فرمایا۔اس کے علاوہ علماء کرام کی بھی تقاریر ہوئیں۔حضور انور نے جلسہ سالانہ کے پہلے دن یعنی 11 جنوری کو دس بجے جلسہ گاہ تشریف لاکر ایک دعائیہ خطاب اور پر سوز اجتماعی دعا سے جلسہ سالانہ کا افتتاح فرمایا۔افتتاحی خطاب حضور انور نے اپنے افتتاحی خطاب کا آغاز سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان پُرسوز دعاؤں سے فرمایا جو حضور علیہ السلام نے اس لکھی جلسہ میں شمولیت کی غرض سے سفر اختیار کرنے والوں کے حق میں کی ہیں اور جو اشتہارے دسمبر ۱۸۹۲ء کے آخر میں درج ہیں۔بعد ازاں حضور نے واضح فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان دعاؤں کا وارث بننے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان ذمہ داریوں کو ادا کریں جو خاص اس ضمن میں ہم پر عائد ہوتی ہیں۔چنانچہ اس تعلق میں ہماری سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ جلسہ کے ایام میں ہمارا سارا وقت دعاؤں میں بسر ہو۔پس ان بابرکت ایام میں اپنے اوقات کو دعاؤں سے معمور رکھیں اپنے لئے بھی دعائیں کریں اور اپنے ہم وطنوں اور دنیا کے سب مکینوں کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں اور خاص طور پر یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ملک کو مستحکم سے مستحکم تر بناتا چلا جائے اور اس کے اس استحکام کو غلبہ اسلام میں مد بنائے۔اس جلسہ سالانہ کے اُن چھ اجلاسوں کے علاوہ جو دن کے اوقات میں منعقد ہوئے ، ۱۱ اور ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء کی درمیانی شب نماز عشاء کے بعد مسجد مبارک میں ایک خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوا اس میں بھی احباب اس کثرت اور شوق و ذوق کے ساتھ شریک ہوئے کہ مسجد مبارک میں تل دھر نے کو جگہ نہ تھی۔