تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 482
تاریخ احمدیت۔جلد 24 460 سال 1968ء آف بدوماهی سابق مبلغ گیمبیا، محترم مولانا محمد صادق صاحب مبلغ سماٹرا محترم مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل سابق مبلغ بلا دعربیه، محترم مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب محترم مولانا قاضی محمد نذیر صاحبہ لائل پوری ناظر اصلاح و ارشاد اور محترم مولانا ظہور حسین صاحب سابق مبلغ بخارا شامل ہیں۔ربوہ میں عید الفطر کی نہایت بابرکت تقریب مورخہ ۲ جنوری ۱۹۶۸ء یکم شوال بروز منگل ربوہ میں اسلامی شعار کے مطابق عیدالفطر منائی گئی۔اہل ربوہ نے ہزاروں کی تعداد میں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی اقتداء میں مسجد مبارک میں نماز عید ادا کی۔اس کے علاوہ دور ونزدیک سے آئے ہوئے کثیر التعداد احباب نے بھی شرکت کی۔حضور نے نماز پڑھانے کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا۔حضور نے قرآن مجید کی رو سے عید کے فلسفہ پر ایک نئے زاویہ نگاہ سے روشنی ڈال کر اس امر کو واضح فرمایا کہ اگر ہر ایک مسلمان قرآن مجید کی ایک خاص ہدایت پر عمل کرے تو اس کے لئے ہر روز روز عید ثابت ہوسکتا ہے۔خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے ایک پر سوز اجتماعی دعا کرائی۔دعا کے بعد حضور نے مسجد میں موجود جملہ احباب کو از راہ شفقت مصافحہ کا شرف عطا فرمایا۔خلافت ثالثہ کے عہد مبارک کا تیسرا جلسہ سالانہ سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے رمضان المبارک اور عید الفطر کی وجہ سے ۱۹۶۷ء کا جلسہ سالانہ مؤخر فر ما دیا تھا پھر ۱۹۶۷ء کا یہ مؤخر کردہ جلسہ سالانہ ۱۱ تا ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء انعقاد پذیر ہوا۔اس جلسہ میں قریباً ایک لاکھ فرائی پاکستان کے کونے کونے سے اور دنیا کے دور دراز ممالک مثلاً امریکہ، برطانیہ، مغربی جرمنی ، ہالینڈ، مشرقی افریقہ ، ماریشس، دبئی ، جزائر فجی اور بھارت وغیرہ سے بھی تشریف لائے تھے۔معاینه انتظامات جلسه سالانه جلسہ سالانہ کے آغاز سے قبل سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے مورخہ ۸ جنوری ۱۹۶۸ء کو ایک گھنٹہ سے زائد عرصہ تک جلسہ کے ان انتظامی شعبوں کا معاینہ فرما کران شعبہ جات کے متعلق افسران کو بیش قیمت ہدایات سے نوازا۔حضور نے تین نئے سٹوروں کا معاینہ بھی فرمایا جو دفتر جلسہ سالانہ کے قریب ہی تعمیر کئے گئے تھے۔بعد ازاں حضور نے دفتر جلسہ سالانہ کے برآمدہ میں تشریف