تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 481 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 481

تاریخ احمدیت۔جلد 24 459 سال 1968ء سلح تا فتح ۱۳۴۷هش/ جنوری تا دسمبر ۱۹۶۸ء سال نو کے آغاز پر اجتماعی دعا سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث یکم جنوری ۱۹۶۸ء بمطابق یکم صلح ۱۳۴۷ ہجری منشی نماز فجر پڑھانے کے بعد مسجد مبارک میں رونق افروز ہوئے اس دن حسن اتفاق سے ۲۹ رمضان المبارک کا دن تھا آپ نے فرمایا کہ آج کسی ہجری سال کا پہلا دن ہے۔رمضان المبارک کے مبارک اور قبولیت دعا کے خاص دنوں میں سے بھی ایک دن ہے۔سب بھائیوں اور بہنوں کو نیا سال مبارک ہو۔آؤ آج اس وقت مل کر سب اجتماعی دعا کریں۔اس میں سب صرف ایک ہی دعا کریں اور وہ یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی عظمت اور اس کے جلال سے اس کے بندے واقف ہو جائیں اور ساری دنیا میں اس کی توحید پھیل جائے۔نیز سب انسان اباء و استکبار کے جہنم سے بچ جائیں اور اپنے رب کو پہچاننے لگ جائیں اس کے لئے اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی قربانی کی توفیق بخشے۔اس لحاظ سے یہ سال ہمارے لئے مبارک ہو۔آمین حضور نے نہایت رقت اور درد سے پُر اثر الفاظ میں یہ بات بیان فرمائی اور پھر سب حاضرین سمیت حضور نے بھی دعا کی۔دعا کے وقت سب احباب پر رقت طاری تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا درس قرآن اور اجتماعی دعا یکم رمضان المبارک سے نظارت اصلاح وارشاد کے زیر اہتمام مسجد مبارک ربوہ میں پورے قرآن مجید کے خصوصی درس کا سلسلہ جاری رہا جو ۲۹ رمضان المبارک مطابق یکم جنوری ۱۹۶۸ء نماز مغرب سے قبل مکمل ہو گیا۔آخری روز تین سورتوں کا درس سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے دیا جو قریبا پچاس منٹ تک جاری رہا۔حضور نے ان سہ سورتوں کی نہایت لطیف تفسیر بیان فرمائی۔بعد ازاں حضور نے نہایت پرسوز اجتماعی دعا کرائی جس میں حاضر الوقت ہزاروں احباب شریک ہوئے۔اس کے علاوہ جن علمائے کرام نے اس درس میں حصہ لیا ان میں علی الترتیب محترم مولانا غلام احمد صاحب