تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 29
تاریخ احمدیت۔جلد 24 29 29 سال 1967ء پروفیسر حبیب اللہ خاں صاحب، سید حسین صاحب ذوقی، مولوی حیدر علی صاحب، مولوی محمد عبد القادر صاحب صدیقی ، محمد عبداللہ صاحب بی۔ایس سی، ڈاکٹر عبدالرحمن صدیقی صاحب اور محمد عبدالحئی صاحب مچھلی بندری وغیرہ نظم ونسق کے مختلف شعبوں کی گزیٹڈ خدمات پر مامورر ہے۔خاکسار ( مراد سیٹھ محمد اعظم صاحب حیدر آبادی) کو نظام کے دور حکومت میں تنظیم مابعد جنگ ( پلاننگ کمیشن)، دستوری مشاورتی کمیٹی ، فوڈ کونسل اور اس کی مجلس عاملہ اور حیدر آباد میونسپل کارپوریشن کا ممبر نامزد وو کیا گیا تھا۔اور اس طرح ایک خدمت گزار کی قومی خدمات کا اعتراف کیا گیا تھا۔جماعت احمدیہ کی جانب سے ریاست حیدرآباد کے پس ماندہ طبقہ کے بچوں کی تعلیم کے لئے شہر حیدرآباد اور بعض اضلاع میں مدارس کھولے گئے تھے اور ان مدارس کی تنظیم کے لئے حضرت مصلح موعود نے حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب تیر کو متعین کیا تھا۔نظام نے جماعت کی ان تعلیمی مساعی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور ان مدارس کے اخراجات جاریہ کے لئے معقول ماہوار رقم کی منظوری صادر فرمائی تھی۔جناب شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر اخبار نور ( قادیان ) کو قرآن کریم کے گورمکھی ترجمہ کے لئے پانچ ہزار روپیہ کا عطیہ دیا گیا تھا اور حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی کی کتاب حیات عثمانی کے بیان کے مطابق اس کی اشاعت کے تمام اخراجات برداشت کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کی گئی تھی اور حضرت ذوالفقار علی خاں صاحب گوہر کو رام پور سے طلب فرمایا گیا اور بطور مہمان شاہی گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا تھا۔غالباً ۳۵ ۱۹۳۴ء میں برار ( ریاست حیدرآباد میں ایک جگہ کا نام پر نظام کا قانونی اقتدار اعلیٰ حکومت برطانیہ نے تسلیم کیا تھا۔اور اس سلسلہ میں جو معاہدہ طے ہوا تھا۔اس میں جماعت کی ایک بہت معروف شخصیت کی قانونی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ایک احمدی صحافی لاہور سے حیدر آباد آن کرسن سٹروک سے فوت ہو گئے تو ان کی بیوہ اور بچوں کی پرورش کے لئے ایک معقول وظیفہ جاری کیا گیا۔اسی طرح جماعت مدراس کے ایک عالم کو بھی ان کے علم کے اعتراف اور اُن کی ضعیفی کی وجہ سے وظیفہ ملتا رہا۔ملک فضل حسین صاحب ( قادیان) کی ایک معروف کتاب کے انگریزی ترجمہ اور اس کی اشاعت کے سارے اخراجات کی بھی منظوری دی گئی تھی۔میں نے یہ چند واقعات محض اپنے حافظہ اور یادداشت کی بناء پر مـن لــم يشكر الناس لم یشکر اللہ کے تحت اور موجودہ اور آنے والی نسلوں کے علم کے لئے بطور ریکارڈ لکھے ہیں۔یقین ہے کہ ان میں اور اضافہ کی گنجائش ہے۔