تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 28 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 28

تاریخ احمدیت۔جلد 24 28 20 سال 1967ء ہے اور اس سے ایک قسم کی بے ادبی ہو رہی ہے۔اگر اس کو دوسری طرف لکھوایا جائے تو مناسب رہے گا۔چنانچہ اُن کے اس نہایت مناسب مشورہ کی تعمیل کی گئی۔پس جنگ عظیم کے چند سالوں بعد دواعلی تعلیم یافتہ نومسلم احمدی، جن میں ایک انگریز مسٹر عثمان فشر اور دوسرے بنگالی مسٹر خالد بینز جی تلاش روزگار میں انگلستان سے حیدر آباد آئے تھے۔جماعت حیدر آباد کی جانب سے معروضہ پر ان دونوں احمدی نو مسلموں کو اچھی خدمات پر مامور کیا گیا۔چنانچہ مسٹر عثمان فشر کا تقرر نائب معتمد ترقیات عامہ کے طور پر اور مسٹر خالد بیر جی کا بحیثیت سپرنٹنڈنٹ انجینئر کیا گیا تھا۔مسٹر عثمان فشر کو گیسٹ ہاؤس (سرکاری) میں ٹھہرایا گیا اور اُن کے لئے سواری کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔اور سکندر آباد کی مشہور ٹیلرنگ فرم سرس جان برٹن سے انہیں کئی قیمتی سوٹ سلوا کر دیئے گئے تھے۔وہ حیدر آباد میں زیادہ عرصہ نہیں ٹھہرے اور جلد واپس اپنے وطن چلے گئے۔لیکن مسٹر خالد بیر جی سالہا سال اپنی خدمت پر مامور ر ہے اور پینشن پر علیحدہ ( ریٹائر ہوئے۔ریاست حیدرآباد میں مسلمانوں کے ایک بہت بڑے طبقہ کا پیشہ سرکاری ملازمت رہا۔اور جماعت احمدیہ کی ایک کثیر تعداد بھی اس پیشہ سے وابستہ رہی ہے اور وہ اپنی استعداد تعلیمی اور کارکردگی کی اعلیٰ اور اچھی صلاحیتوں کی وجہ سے اعلیٰ ، درمیانی اور نیچے درجہ کی مختلف خدمات پر فائز رہے ہیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کے تعصب کا برتاؤ نہیں کیا گیا۔نظام سابع کے دور حکومت میں مولوی غلام اکبر خاں صاحب سالہا سال ملک کی اعلیٰ عدالت ہائیکورٹ ) کے حج رہے اور کئی سال تک بحیثیت ہوم سیکر یٹری بھی کام کیا۔ان کی اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں انہیں نواب اکبر یار جنگ بہادر کے خطاب سے سرفراز فرمایا گیا۔مسجد جعفری کے تعلق سے ۸۵،۸۰ سال کا جو پرانا تنازعہ سنی اور شیعہ فرقوں کے درمیان چلا آرہا تھا اس کے تصفیہ کے لئے جو کمیشن مقرر کیا گیا اس کی صدارت نواب صاحب کے سپرد کی گئی تھی۔بعد کے سالوں میں ایک تحقیقاتی کمیشن بھی نواب صاحب ہی کی صدارت میں قائم ہوا تھا۔نواب صاحب کو یہ اعزاز بھی ہمیشہ حاصل رہا کہ ملک کے اہم مسائل پر مشورہ کے لئے نظام اُن کو طلب فرمایا کرتے تھے۔محترم نواب اکبر یار جنگ بہادر کے علاوہ نظام کے دارالحکومت میں حضرت مولانا ابوالحمید صاحب آزاد، حضرت ڈاکٹر سید ظہور اللہ احمد صاحب، شیخ فضل کریم صاحب، نواب ادیب یار جنگ بہادر، مولوی فضل حق خاں صاحب، نواب غلام احمد خان صاحب، نواب رشیدالدین خاں صاحب، کیپٹن محمد اسلم خاں صاحب، بریگیڈئیر ڈاکٹر غلام احمد صاحب احمدی،