تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 391
تاریخ احمدیت۔جلد 24 391 سال 1967ء ومئی ۱۹۶۷ء) افغانستان، کیوبا، ڈنمارک، ہنگری، روس (۱۰مئی ۱۹۶۷ء) عراق ، کویت ،سعودی عرب، تنزانیہ، یوگنڈا (۱ امئی ۱۹۶۷ ء ) لبنان ، ترکی ، ویت نام، جارڈن، چین 30 (۱۲مئی ۱۹۶۷ء) پولینڈ ، مراکو، جاپان، امریکہ، کوریا ۴۔دکن کے ضلع رائی چور میں حضرت شمس عالم حسینی سرکار کا عرس حسب دستور اس سال مورخه ۱۶،۱۵صفر ۱۳۸۷ھ مطابق ۲۶، ۲۷ مئی ۱۹۶۷ء کو ہوا۔یہاں بھی جماعت احمد یہ یاد گیر کے زیر اہتمام مولوی فیض احمد صاحب مبلغ مقامی کی نگرانی میں تبلیغی بکسٹال لگایا گیا اور خاصی تعداد میں تبلیغی لٹریچر کی اشاعت کی گئی۔بعض احباب سے تبادلہ خیالات بھی ہوا اور انہیں مناسب رنگ میں جوابات 31 دیئے گئے۔۵۔اس سال ۳۱ جولائی سے ۱۰ را کتوبر تک ایک مرکزی وفد نے وادی کشمیر کا تبلیغی دورہ کیا جومندرجہ ذیل اصحاب پر مشتمل تھا۔(۱) مولوی بشیر احمد صاحب مبلغ دہلی (۲) مولوی سمیع اللہ صاحب مبلغ بمبئی (۳) مولوی عبدالحق صاحب فضل مبلغ بہار (۴) مولوی کریم الدین صاحب مدرسه احمدیہ (۵) مولوی بشیر احمد صاحب خادم وفد کی تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں ۳۲ /افراد داخل احمدیت ہوئے۔گیارھویں آل کیرالہ احمدیہ کا نفرنس کا کامیاب انعقاد جماعت احمدیہ صوبہ کیرالہ کی گیارھویں سالانہ کانفرنس نہایت شاندار پیمانه پر مورخه ۲۲ ۲۳۰ / اپریل ۱۹۶۷ء بمقام ٹیلی چری مقامی ٹاؤن ہال میں منعقد کی گئی۔کانفرنس میں شمولیت اور تقریر کے لئے خاص طور پر کلکتہ سے مکرم مولا نا شریف احمد امینی صاحب انچارج احمد یہ مسلم مشن صوبہ بنگال اور حیدر آباد سے مکرم مولوی محمد عمر صاحب کو مدعو کیا گیا تھا۔کانفرنس سے دوروز قبل یعنی ۲۰ اور ۲۱ اپریل کو ٹیلی چری میں نہایت وسیع پیمانے پر تبلیغی مہم بھی جاری کی گئی۔دو دن میں تقریبا ساڑھے تین سو روپے کی کتابیں فروخت ہوئیں۔اس مہم میں مختلف جماعتوں کے ۷۰ کے قریب اطفال، خدام اور انصار نے شرکت کی۔کانفرنس کے انعقاد کی رپورٹ صوبہ کیرالہ کے مشہور اخبار ماتر و بھومی نے شائع کی۔یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال کی نسبت امسال حاضر ہونے والے احمدی احباب کی تعداد میں ایک سو بیس افراد کا اضافہ تھا۔