تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 390
تاریخ احمدیت۔جلد 24 390 سال 1967ء انتقال کا لفظ سنتے ہی سجادہ نشین صاحب نے انا للہ پڑھا اور دعائے مغفرت مانگی۔موصوف کافی دیر تک اسٹال میں تشریف فرمار ہے۔اسٹال کے باہر عقیدت مندوں کا ہجوم سجادہ نشین صاحب کے احترام میں کھڑا انتظار کر رہا تھا۔29 ۲۔۳۱ مارچ ۱۹۶۷ء کو بمبئی میں ۲۹ سوٹرز سٹریٹ کے خوشنما ہال میں ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز کا ایک جلسہ منعقد ہوا۔جس میں مولوی سمیع اللہ صاحب انچارج احمد یہ مسلم مشن بمبئی نے وحی والہام کے موضوع پر ایک کامیاب تقریر کی۔یہ ایسی مدلل تقریر تھی کہ دوران جلسہ کسی عیسائی دوست کو اس کے کسی پہلو کی تردید کرنے کی جرات نہ ہوئی۔البتہ جماعت اسلامی مہاراشٹر اسٹیٹ کے امیر جناب شمس صاحب پیرزادہ نے اس موقع پر اعتراض کرتے ہوئے یہ بے محل اور بے موقع بات کہی کہ خُدا جسے پیار کرتا ہے اس سے بولنا چھوڑ دیتا ہے۔انہوں نے ختم نبوت کا مسئلہ بھی چھیڑا۔مگر اس پر خود دوسرے مسلمانوں نے انہیں ملامت کی۔۔اس سال نظارت دعوة التبلیغ قادیان کی طرف سے مولوی بشیر احمد صاحب مبلغ دہلی کو دتی کے سفارتخانوں کے لئے جماعت کا خصوصی لٹریچر بھجوایا گیا۔جسے آپ نے ایک خاص پروگرام کے تحت سید سعد برکات مسلم بی۔اے (ابن سید برکات احمد صاحب دہلوی) کے تعاون سے ۲ مئی سے ۱۲ مئی تک خاص اہتمام کے ساتھ پہنچا دیا۔آپ نے جماعتی تعارف کے سلسلہ میں انگریزی زبان میں ایک چٹھی ٹائپ کروائی جو لٹریچر سے قبل پیش کر دی جاتی تھی۔اور اس کے بعد زبانی گفتگو کا سلسلہ بھی جاری ہوتا تھا۔اور اس طرح جماعت کا تعارف ایک وسیع سفارتی حلقے میں ہوا۔سید سعد برکات مسلم کو انگریزی زبان میں لکھنے اور بولنے کی اچھی مہارت تھی۔اور انہوں نے اس مہم میں نہایت اخلاص کے ساتھ قابل قدر مدد کی۔جن سفارتخانوں میں جماعتی لٹریچر پہنچایا گیا۔اس کا تاریخ وار گوشوارہ حسب ذیل ہے۔(۲ مئی ۱۹۶۷ء) رومانیہ متحدہ عرب جمہوریہ مصر اور شام ) ، برٹش کونسل ، ملیشیاء (۳ مئی ۱۹۶۷ ء) سیلون ، انڈونیشیا، یوگوسلاویہ، ویسٹ جرمنی، برما (۴ مئی ۱۹۶۷ء) نیپال، فلپائن، نائیجیریا، چائنا، چلتی ، کیوبا (4 مئی ۱۹۶۷ء) کونسیا۔چیکوسلواکیہ ، فرانس ، ایران ، رشیا ( ۸ مئی ۱۹۶۷ء) منگولیا، الجیریا، سوڈان،گھانا، بلگریا