تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 356
تاریخ احمدیت۔جلد 24 356 سال 1967ء بیوی کے ذریعہ سے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ خاکسار کارخانه بیلینا ریاست ناہن شاخ لدھیانہ میں منشی ہے حضور دعا فرما دیں کہ میں کارخانہ کا انچارج ایجنٹ بن جاؤں۔سو میرا تبادلہ بٹالہ ہو جاوے تا کہ میں آتے جاتے مہمانوں کی خدمت کیا کروں۔حضور نے فرمایا بہت اچھا۔ہم دعا کریں گے اگلے روز صبح کے وقت حضور سے اجازت چاہی کہ میں واپس جا رہا ہوں اور یکہ کرایہ پر کر لیا ہے حضور نے فرمایا ابھی ٹھہر و یکہ پھر بھی مل جاویگا۔مگر بیوقوفی کی وجہ سے میں نے جانے کا اصرار کیا۔حضور نے فرمایا اگر نہیں ٹھہر نا تو کھانا ساتھ لے کر جاؤ۔خواہ باسی ہی ہو۔حضور نے فوراً کسی خادمہ کو کہہ کر کھانا منگوا دیا۔ہم واپس لدھیانہ اپنی جائے ملازمت پر حاضر ہو گئے۔ڈاک میں ایک لفافہ ملا۔جس میں انسپکٹر صاحب جو کہ ایک انگریز تھے۔یہ حکم ملا کہ فور أسمرالہ ضلع لدھیانہ میں جا کر ایجنٹی کا چارج لے لو۔اور کام کرو چنانچہ خاکسار سمرالہ چلا گیا۔یہ جو دعا کرائی تھی وہ پوری ہوگئی۔اور جو تبادلہ بٹالہ کے متعلق تھی وہ ۱۹۱۵ ء میں پوری ہوئی اور سات سال تک بٹالہ میں رہ کر آتے جاتے مہمانوں کی خدمت جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی کرتا رہا، ایک دفعہ اپنے والد کو حضور علیہ السلام کی خدمت میں برائے بیعت لے کر حاضر ہوا۔مغرب کے بعد حضور کی عادت تھی کہ شاہ نشین پر بیٹھ جایا کرتے تھے۔میں حضور کے پاؤں دبا رہا تھا اور میرے والد بھی پاؤں دبا رہے تھے میں نے عرض کیا کہ حضور میرے والد کے درد گردہ ہوتا ہے حضور دعا فرماویں۔حضور نے فرمایا کہ آپ کے والد کہاں ہیں۔عاجز نے عرض کیا کہ یہ دوسرے جو میرے ساتھ حضور کے پاؤں دبار ہے ہیں۔یہی ہیں۔۱۹۰۵ء میں حضور دہلی سے تشریف لا رہے تھے اور لدھیانہ میں حضور کا لیکچر ماہ رمضان میں ہوا۔لوگوں نے بڑی خوشی سے سنا۔اس موقعہ پر عاجز سمرالہ سے لدھیانہ پہنچ گیا۔حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ میری بیوی کو عرصہ چار سال سے حمل کے نشانات ہیں اور پیدا کچھ نہیں ہوا۔حضور دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ اس مرض سے نجات دے۔حضور نے فرمایا بہت اچھا ہم دعا کریں گے۔اس دعا کے نتیجہ میں لڑکا پیدا ہوا۔حضور کو نام کے واسطے خط لکھا گیا۔حضور نے اس لڑکے کا نام عبدالعزیز رکھا۔ایک دفعہ قادیان میں فنانشل کمشنر صاحب قادیان تشریف لائے۔بڑے بڑے معززین احباب کو سلسلہ کی طرف سے بلایا گیا تھا۔عاجز بھی حاضر ہوا۔سمرالہ میں ان دنوں نعمت اللہ خاں صاحب حج جو کہ آج کل پنشنرز ہیں اور مخلصین میں سے ہیں عاجز ان کو تبلیغ کیا کرتا تھا اور وہ اس وقت غیر احمدی تھے۔جب میں نے جج صاحب سے عرض کیا کہ میں قادیان جا رہا ہوں تو انہوں نے فرمایا کہ میرے