تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 355
تاریخ احمدیت۔جلد 24 اولاد 355 سال 1967ء ا۔ملک صلاح الدین صاحب ( مولوی فاضل۔ایم اے ) در ویش دار مسیح قادیان۔۲۔ڈاکٹر عطاء اللہ صاحب ۳۔ملک رحمت اللہ صاحب ۴۔ملک برکت اللہ صاحب (بی اے آنرز۔ایل ایل بی۔ایڈووکیٹ) ۵۔ملک عصمت اللہ صاحب۔۶۔ملک حشمت اللہ صاحب۔ے۔عزیزہ بیگم صاحبہ - ۸ - امتہ الحفیظ صاحبہ۔۹۔ملک ذکاء اللہ صاحب۔حضرت منشی عبد الکریم صاحب بٹالوی ولادت: ۱۸۷۴ء تحریری بیعت ۱۸۹۷ء دستی بیعت : ۱۹۰۲ء وفات: ۳۰ دسمبر ۱۹۶۷ء حضرت منشی صاحب نے اپنی خود نوشت روایات میں لکھا ہے کہ خاکسار کا وطن موضع عثمان پور ریاست جیند تحصیل سنگرور ہے۔طالب علمی کے زمانہ میں خاکسار بٹالہ میں پہنچ گیا۔مولوی محمد حسین بٹالوی کے شاگرد مولوی شمس الدین تھے۔ان کے پاس قرآن کریم کا ترجمہ پڑھتا تھا اور اس جگہ پر مجھے ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا علم حاصل ہو گیا۔چونکہ میں مولوی محمد حسین کے پیچھے نماز جمعہ پڑھتا تھا انہیں کے رنگ میں رنگین ہو کر اپنے وطن کو واپس ہو گیا۔نابھہ ریاست میں ایک مولوی عبدالرحیم صاحب تھے۔ان کی صحبت میں رہ کر ۱۸۹۷ء میں بیعت کا خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھ دیا تھا۔جنوری ۱۹۰۲ء میں جمعہ کی نماز مسجد اقصیٰ میں مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھائی۔نماز کے بعد حضور علیہ السلام بیٹھ گئے اور عاجز سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ نے بیعت کرنی ہے۔خاکسار نے عرض کیا۔حضور بیعت کرنی ہے۔حضور نے میرا ہاتھ ہاتھ میں لیکر بیعت شروع کر دی اور بھی بہت سے لوگ بیعت میں شامل ہوئے۔اس دن یا اگلے روز حضور سیر کو تشریف لے گئے خاکسار بھی ہمراہ ہو گیا۔واپسی میں جو مسجد کی سابقہ سیٹرھیاں ہیں عاجز آگے بڑھ کر وہاں کھڑا ہو گیا۔کچھ نذرانہ پیش کیا۔حضور نے عاجز کا وطن پوچھا میں نے عرض کی کہ سامانہ کے قریب ایک گاؤں ہے حضور نے فرمایا کہ یوسف بیگ سامانوی کا انتقال کیسے ہو گیا۔عاجز نے عرض کیا کہ میں لدھیانہ میں ملازم ہوں۔مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں۔ان کے بعد میاں کرم الہی صاحب لدھیانوی کا ذکر دریافت کرتے رہے۔اس کے بعد ایک دفعہ حضور کی خدمت میں قادیان آنے کا موقعہ میسر آیا۔اپنی