تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 354 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 354

تاریخ احمدیت۔جلد 24 354 سال 1967ء جملہ روایات ۹ جنوری ۱۹۳۸ کو اپنے فرزند ملک برکت اللہ صاحب کو قادیان میں لکھوائی تھیں) اور اس ضمن میں سید بھی فرمایا کہ:۔ا۔۲۔برف کا وہ صندوق، جس میں آپ کا جسمِ اطہر رکھ کر بٹالہ تک لائے تھے۔وہ پھر قادیان باغ میں بمعہ برف کے پڑا تھا۔میں نے اس خیال سے کہ حضور کا جسم اس برف سے چھو چکا ہے۔تھوڑی سی برف اُٹھا کر کھائی۔تب مجھے معلوم ہوا کہ اس میں مشک کا فور ڈال کر بنائی گئی ہے۔حضرت خلیفہ اول کھڑے ہو گئے اور ایک تقریر فرمائی جس میں یہ فرمایا کہ یہ بہت بڑا بوجھ ہے۔اور اتنا بڑا بوجھ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جو بوجھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے میرے باپ پر پڑا۔اگر کسی پہاڑ پر پڑتا تو وہ چور چور ہو جاتا۔یہ اتنا بڑا بوجھ ہے کہ میں اسے اُٹھانے کی اپنے میں مطلق طاقت نہیں پاتا۔چونکہ آپ سب لوگ اس بات پر متفق ہیں اس لئے میں خدا تعالیٰ کے بھروسہ پر اس بوجھ کو اُٹھاتا ہوں۔اس کے بعد وہاں ایک چار پائی پڑی تھی۔حضرت میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ ثانی ) کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اس چار پائی پر آپ جیسے کوئی گر پڑتا ہے، بیٹھ گئے۔اور میاں صاحب کو اپنے پاس ہاتھ پکڑ کر بیٹھا لیا۔یہ بات خاص طور پر میں نے نوٹ کی کہ سب سے پہلے جس شخص کا ہاتھ بیعت کے لئے آپ نے پکڑا وہ خلیفہ ثانی تھے۔اس چار پائی پر بیٹھ کر بیعت لینی شروع کر دی۔اس پہلی پارٹی میں احقر نے بھی بیعت کی تھی۔غالباً نماز ظہر ( در حقیقت نماز عصر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت خلیفہ اول نے نماز جنازہ پڑھائی۔میاں سلطان احمد صاحب بھی آچکے تھے۔اتفاق سے مرزا سلطان احمد صاحب جنازہ میں میرے ساتھ کھڑے تھے۔میں نے دیکھا کہ وہ بہت رور ہے تھے۔صدر انجمن احمد یہ قادیان کی سالانہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک زمانہ میں آپ انجمن پاکپتن 111 کے سیکرٹری بھی رہے۔سالانہ رپورٹ ۲۰- ۱۹۱۹ء کے صفحہ ۱۳۳ پر پاکپتن کے اُن مخلص بزرگوں کی فہرست شائع کی گئی جنہوں نے سب سے زیادہ چندہ دیا تھا۔اس فہرست میں آپ کا نام تیسرے نمبر پر درج ہے۔۱۹۲۶ء میں آپ جماعت احمدیہ پاکپتن کے محاسب وامین مقرر ہوئے۔آپ صاحب کشف و الہام تھے۔اور تحریک جدید کی پانچیز اری فوج میں شامل ہونے کا شرف بھی رکھتے تھے۔آپ کے ذریعہ متعددافراد نے احمدیت قبول کی۔