تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 353 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 353

تاریخ احمدیت۔جلد 24 353 سال 1967ء 108 موعود کی زیارت بڑی آسان ہے۔اس لئے ۱۶۔۱۷ کی رات کی گاڑی پر سوار ہو کرے امئی صبح سویرے لاہور پہنچ گیا۔سٹیشن پر اتر کر کیلیاں والی سڑک پر احمد یہ بلڈنگ میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام قیام فرما تھے پہنچ گیا۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ حضور کا لیکچر امراء کے لئے مقرر ہے اور صرف امراء کو داخل ہونے کی اجازت ہے۔عام لوگوں کو داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔( یہ لیکچر روسائے لاہور کو دیا گیا تھا۔اس مکان کے دروازے پر جہاں لیکچر ہو رہا تھا ، سید محمد اشرف صاحب راہوں والے کھڑے تھے۔جو کہ لوگوں کو دیکھ دیکھ کر اندر داخل کرتے تھے۔میں ان کی منت کر کے اندر داخل ہو گیا۔چوہدری غلام احمد صاحب ایڈووکیٹ اس وقت اسلامیہ کالج میں پڑھتے تھے۔وہ اب تک افسوس کیا کرتے ہیں کہ اگر چہ میں اس وقت احمدی نہ تھا تا ہم اس لیکچر کے لئے گیا۔مگر سید محمد اشرف صاحب نے ان کو داخل نہ ہونے دیا۔اس طرح کے امتی والا لیکچر میں نے سنا۔۔۔میرے بڑے بھائی حکیم دین محمد صاحب نے میرے لئے پشاور میں ملازمت کی تجویز کر کے غالبا ۲۲ مئی کو وہاں بھیج دیا۔۲۳ مئی کو وہاں پہنچا۔وہاں کام نہ بنا۔۲۴ مئی کو میں واپس لاہور آ گیا۔۲۵ کے دن رہنے کے بعد ۲۶ کو حضور کی وفات ہو گئی۔میں اپنے بھائی صاحب کے پاس ہربنس سنگھ کی حویلی میں لاہور رہتا تھا۔بازار میں میں اور بھائی صاحب کسی کام کے لئے جارہے تھے کہ غالباً چوہدری عبدالحئی صاحب کا ٹھ گڑھ والے نے بتلایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ہوگئی۔یہ خبر سنتے ہی میرا اپنا یہ حال ہوا کہ تمام بدن سُن اور بے حس ہو گیا۔کچھ منٹوں کے بعد ہوش ٹھیک ہوگئی۔اس وقت تک کہ میرے والد صاحب اور والدہ صاحبہ اور بھائی اور لڑکے اور کئی عزیز فوت ہوئے ہیں۔مگر ایسا صدمہ جیسا کہ حضور کی وفات کا سنکر ہوا تھا۔کبھی نہیں ہوا۔میرے بھائی حکیم محمد دین صاحب کے پاس میرے علاوہ میرے تایا زاد بھائی جو کہ غیر احمدی تھے، اپنی لڑکی کے ساتھ ، جو کہ بیمار تھی، معالجہ کے لئے ٹھہرے ہوئے تھے۔بھائی صاحب نے مجھے فرمایا کہ ان کی خاطر تم یہاں ٹھہرو۔اور میں جنازہ کے ساتھ قادیان جاؤں گا۔میں نے کہا کہ یہ آپ کے مہمان ہیں۔آپ ٹھہریں یا نہ ٹھہریں میں تو جنازہ کے ساتھ ضرور جاؤں گا۔ہمارے آپس کے اس تکرار کو دیکھ کر انہوں نے کہا کہ بھائی میں اکیلا ہی رہوں گا۔آپ دونوں جائیں۔چنانچہ ہم یہ فیصلہ کر کے احمد یہ بلڈ نٹکس میں پہنچے۔حضرت ملک صاحب نے اس کے بعد لاہور سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعش مبارک کے قادیان پہنچنے ، بیعت اولی اور جنازہ کے چشمد ید واقعات بتائے۔(حضرت ملک صاحب نے یہ 109