تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 344
تاریخ احمدیت۔جلد 24 344 سال 1967ء دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ تم کو مرزا صاحب کی بدولت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی حاصل ہوگی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور میں خدا کی قسم کھا کر تحریر کرتا ہوں کہ جب ۱۹۰۵ء میں میں بیعت ہو ا تو حضور وہی تھے جو خواب میں میری طرف دیکھ رہے تھے۔اس طرح سے خدا جس کو چاہتا ہے سچا راستہ دکھا دیتا ہے۔۲۔جب میری عمر پندرہ سال کے قریب تھی تو میں نے بہشت اور دوزخ اور اعراف کو خواب میں دیکھا۔اُن کے دیکھنے کی ایک لمبی تفصیل ہے۔محض اس پر ہی اکتفا کرتا ہوں کہ جب میں بہشت دیکھ کر باہر آیا تو ایک بزرگ ملے اور اُنہوں نے میرے کندھے پر دستِ مبارک رکھ کر فرمایا کہ لڑکے تو کہاں۔میں نے تو اس کا کوئی جواب نہ دیا۔اُس بزرگ نے دریافت کیا کہ یہ مکان یعنی بہشت کس مالیت کا ہے۔بزرگ نے فرمایا کہ اگر تیرا پٹیالہ دو دفعہ بھی فروخت ہو۔اس مکان کی ایک اینٹ کی بھی قیمت نہ ہوگا۔میری آنکھ کھل گئی۔خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔جب میں ۱۹۰۵ء میں بیعت کے لئے قادیان شریف گیا تو مرزا صاحب وہی بزرگ تھے جو مجھ کو بہشت کے دروازہ پر ملے تھے۔۔۱۹۰۵ء میں گرمی کا مہینہ تھا کہ یہ خادم مع ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کے قادیان با ارادہ بیعت گیا۔مغرب کے قریب قادیان پہنچا۔قادیان کے شہری کچے مہمان خانہ میں بسترہ رکھ کر مسجد مبارک میں گیا۔حضرت مرزا صاحب نماز مغرب کے لئے اندرونِ خانہ سے تشریف لائے۔چونکہ کچھ اندھیرا ہو گیا تھا۔خوب فربہ معلوم ہوئے۔کیونکہ خادم شہری آب و ہوا میں پرورش پایا ہے۔شیطان نے دل میں ڈالا۔موٹا کیوں نہ ہو۔لوگوں کا ماس خوب کھاتا ہے۔پھر اندر سے بہت سی عورات ( مراد عورتیں) کی بولنے کی آواز میں آئیں۔دل میں وسوسہ اُٹھا کہ اس کی نیک چلنی کا کیا پتہ ہے۔نفس کے ساتھ سخت جدو جہد ہوئی کہ تمام بدن پسینہ پسینہ ہو گیا۔نفس نئے سے نئے پلید خیالات لاتا تھا۔میں نماز میں دعا کرتا رہا کہ اے خدا اگر یہ شخص سچا ہے تو میں اس کے دروازہ سے نامراد اور نا کام واپس نہ جاؤں۔مگر دل کی کوئی اصلاح نہ ہوئی۔نماز کے بعد مہمان خانہ میں واپس گیا اور فیصلہ کیا کہ ایسے حالات میں بیعت کرنا درست نہیں ہے۔یہ یاد نہیں کہ عشاء کی نماز پڑھی یا نہیں اور پڑھی تو کہاں پڑھی۔مغموم حالت میں سو گیا رات کے دو یا تین بجے کا وقت ہوگا کہ ایک شخص نے مجھ کو گلے سے پکڑ کر چار پائی سے کھڑا کر لیا۔اور اس زور سے میرے گلا دبایا کہ جان نکلنے کے قریب ہوگئی۔اور