تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 345 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 345

تاریخ احمدیت۔جلد 24 345 سال 1967ء کہا کہ تو نہیں جانتا کہ مرزا کون شخص ہے۔یہ وہ شخص ہے جس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اپنے دعوئی میں بالکل صادق ہے۔خبر دار اگر کچھ خیال کیا اور مجھ کو چار پائی پر دے مارا۔میری آنکھ کھل گئی۔اس وقت میری آنکھوں میں آنسو تھے۔اور گلا سخت درد کر رہا تھا۔جیسے فی الواقعہ کسی نے دبایا ہو۔حالانکہ یہ سب خواب کی کیفیت تھی۔دل سے دریافت کیا کہ اب بھی مرزا صاحب کی صداقت میں کوئی شبہ ہے۔دل نے کہا بالکل نہیں۔صبح کو مرزا صاحب کو دیکھا تو معلوم ہوا کوئی فرشتہ آسمان سے اترا ہے۔اور معمولی بدن کا انسان ہے۔اور اس کی ہر حرکت پر جان قربان کرنے کو طبیعت چاہتی تھی۔جب حضور سامنے آجاتے تھے۔بے اختیار رونا آجاتا تھا اور گویا حضور معشوق تھے اور نا چیز عاشق۔بڑی خوشی سے بیعت کی اور خدا نے شیطان کے پنجہ سے چھوڑایا اور مسیح کے دروازہ پر زبر دستی لا ڈالا۔ورنہ میرے بگڑنے میں کیا کسر باقی رہی تھی۔۴۔اب بیعت کا حال گزارش کرتا ہوں۔چار پانچ روز ہو گئے مگر بیعت کا موقعہ حاصل نہ ہوا۔میں نے اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے عرض کیا کہ ہماری بیعت کروا دیں۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ مغرب کی نماز کے بعد تم سب سے آگے بیٹھ جانا۔ہم حضرت صاحب سے عرض کر کے بیعت کرا دیں گے۔چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے جب حضور نماز کے لئے عشاء کے وقت تشریف لائے تو عرض کر دیا کہ حضور یہ لڑکے بیعت کرنا چاہتے ہیں۔حضور نے فوراً خادم کا ہاتھ دست مبارک میں لے کر بیعت لینی شروع کی۔خادم کے ہاتھوں میں بہت بڑے بڑے چمبل تھے اور خون سخت خراب تھا۔اور باوجود ہر قسم کے علاج معالجہ سے اچھا نہ ہوا تھا۔اور یہ عارضہ تین سال سے تھا۔حضور نے ہاتھ بہت زور سے دبایا سخت تکلیف ہوئی۔میں بہت خوش تھا کہ اب یہ بزرگ جب ہاتھ دبا رہا ہے تو چمبل کا ہے کو رہے گا۔چنانچہ بیعت کر کے جب یہ خادم پٹیالہ آیا تو تین چار یوم کے بعد ، بعد نماز عشاء جبکہ یہ خادم جائے نماز پر ہی بیٹھا تھا۔اور رات کے بارہ بجے تھے۔اور چوبارہ کے تمام دروازے بند تھے بہت بلند آواز آئی کہ (تو راضی ہو گیا ہے۔بس ) چنانچہ اس کے بعد تمام چمبل اور زخم اچھے ہو گئے۔اور خون خود بخود ٹھیک ہو گیا۔اور خدا کے فضل سے آج تک پھر کبھی خون کا فساد نہیں ہوا۔اور جمبل اور داد تو کیا ذرا کبھی کوئی پھوڑا اور پھنسی تک نہیں ہوا۔ان ہی ایام میں جب میں مہمان خانہ میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مولوی عبدالحق صاحب جو