تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 342
تاریخ احمدیت۔جلد 24 342 سال 1967ء حضرت ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب آف مردان ولادت: سال کی تعیین نہیں ہوسکی تحریری بیعت : ۱۹۰۵ء زیارت: ۱۹۰۶ء وفات ۲۴ نومبر ۱۹۶۷ء آپ بگٹ گنج مردان کے رہنے والے تھے۔اوائل عمر میں مشہور گائیڈ ز رسالہ میں بھرتی ہوئے اور ابھی سپاہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قبول احمدیت کی توفیق بخشی۔جس پر رسالہ کے ساتھیوں نے زبردست مخالفت کی حتی کہ مقاطعہ کر دیا۔ڈاکٹر صاحب کو اُس زمانے میں بہت دعاؤں کی توفیق ملی اور بذریعہ خواب بشارت دی گئی کہ آپ پر دینی و دنیاوی ترقیوں کے دروازے کھولے جائیں گے۔چنانچہ ایسے ہی ہوا۔اور آپ معمولی سپاہی کے درجہ سے ترقی کرتے کرتے انگریزوں ہی کے زمانے میں لیفٹیننٹ ڈاکٹر کے عہدہ پر سے ریٹائرڈ ہوئے۔ہر قسم کے تمغہ جات سے نوازے گئے۔کافی جائیداد بھی بنائی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی بشارت پوری ہوئی۔انہوں نے واقعی دینی ودنیاوی ترقی پائی۔وہ اپنی زندگی پر نہایت خوش اور شاکر تھے۔اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور فضلوں کا ذکر بڑی رقت سے کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں ایک معمولی سپاہی تھا۔اللہ تعالیٰ نے احمدیت نصیب کی اور پھر صحابی بننے کا موقع عطا فرمایا اور سپاہی سے ترقی دیتے دیتے لیفٹیننٹ ڈاکٹر کے عہدہ تک پہنچا دیا۔کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا۔مگر اللہ تعالیٰ نے بہادری کے تمغہ سے نوازا۔پنشن تنخواہ کے برابر عطا فرمائی اور جائیداد بھی دی۔یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا۔ملکانہ میں تبلیغ کے لئے اپنا نام حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں پیش کیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کاحکم ملکانہ جانے کے لئے ایسے وقت میں پہنچا۔جبکہ آپ کی بڑی لڑکی حسن آراء زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھی مگر وہ خدا کے سپر دکر کے مالکانہ کے لئے روانہ ہو گئے۔حالانکہ صاحبزادی کی شدید علالت کے پیش نظر گھر والوں نے بھی سخت مخالفت کی۔مگر آپ نے حضرت خلیفہ اسیح کے حکم کو مقدم رکھا۔اور جاں بلب بیٹی کو چھوڑ کر چلے گئے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے اخلاص کو دیکھ کر آپ کی بیٹی کو شفاء کامل بخشی۔اور جب ڈاکٹر صاحب مرحوم تبلیغ کا فریضہ ادا کر کے واپس آئے تو بیٹی کو تندرست و توانا پایا۔یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں سب کچھ چھوڑ دیں۔اللہ تعالیٰ اُن کے گھروں اور اولاد تک کا حامی و ناصر ہوتا ہے۔آپ نہایت ملنسار اور خوش اخلاق انسان تھے۔اور باجماعت نماز