تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 335
تاریخ احمدیت۔جلد 24 335 سال 1967ء کو بھی ان سے دلی محبت تھی۔جماعتی نظام کے ماتحت ہر اتوار کو امرتسر کے قرب وجوار میں جو تبلیغی وفود بھجوائے جاتے تھے۔ان میں آپ باقاعدگی سے شامل ہوا کرتے تھے۔آپ نے اپنی دفتری زندگی میں بھی اپنا خاص مقام پیدا کیا ہوا تھا۔اور اپنے حسن اخلاق ، خوش خلقی اور ہمدردی خلائق کے باعث افسر اعلیٰ سے لے کر چپڑاسی تک آپ کا مداح تھا اور خاص اُنس اور محبت رکھتا تھا۔آپ کی زبان ہر وقت ذکر الہی سے تر رہتی تھی۔84 حضرت میاں عبدالرشید صاحب فرماتے ہیں کہ ۱۹۰۳ ء میں جب میں سکول آف آرٹس میں طالبعلم تھا اور آخری سال کی تعلیم حاصل کر رہا تھا کہ محلہ وچھو والی کا ایک مسلمان لڑکا آریہ خیالات کے زیر اثر آکر اسلام سے سخت متنفر ہورہا تھا حتی کہ اس نے گوشت کھانا بھی چھوڑ دیا تھا۔رشتہ دارا سے بیگم شاہی مسجد کے امام عبد القادر کے پاس لے گئے۔اس مسجد پر ایک بورڈ بھی آویزاں تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ اس مسجد میں کوئی مرزائی یا وہابی نماز نہ پڑھے۔خیر جب اسے مولوی صاحب کے سامنے پیش کیا گیا تو مولوی صاحب اسے دلائل سے سمجھانے کی بجائے اسے گالیاں دینے لگ گئے اور غصہ میں آکر اس لڑکے کو پیٹنا شروع کر دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکا اسلام سے اور متنفر ہو گیا۔انہی ایام میں اس کا گذر موتی بازار سے ہوا۔وہاں ایک احمدی مستمی احمد دین صاحب ڈوری باف کی دکان تھی۔احمد دین صاحب کو جب اس کے حالات کا علم ہوا تو وہ اس کا گھر دیکھنے کے لئے اس کے پیچھے پیچھے ہو لئے۔بعد ازاں انہوں نے مجھے تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ہم نے اس لڑکے کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کئے۔اور ایسٹر کی رخصتوں میں میں اسے قادیان لے گیا۔حضرت خلیفہ اول اپنے مطب میں تشریف فرما تھے اور درس و تدریس کا سلسلہ جاری تھا۔میں نے اس لڑکے کو کہا کہ یہاں آپ اپنا کوئی سوال کریں۔مگر وہ حضرت مولوی صاحب کے علم اور رعب اور ساتھ ہی سادگی کو دیکھ کر مبہوت ہو رہا تھا۔جب اسے سوال کرنے کی جرات نہ ہوئی تو میں نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں اس کے حالات عرض کئے اور کہا کہ آریہ خیالات سے متاثر ہو کر اس نے گوشت کھانا بھی چھوڑ دیا ہے۔حضرت مولوی صاحب جب مطلب سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنے گھر سے دال مونگ جو غالباً پہلے ہی تیار تھی مہمان خانہ میں بھجوادی اور مجھے کہا کہ اپنے اس دوست کو کھانے کے لئے یہ دال پیش کرنا۔اس کے بعد ظہر کی نماز کے لئے ہم دونوں مسجد مبارک میں گئے مگر اس میرے دوست نے نماز نہیں پڑھی۔نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف فرما ہوئے۔بعض دوستوں نے