تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 336 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 336

تاریخ احمدیت۔جلد 24 336 سال 1967ء آریوں کے سوالات ہی حضور کی خدمت میں پیش کئے جن کے حضور نے جوابات دیئے۔میرا دوست ان جوابات کو بڑے غور سے سنتا رہا۔میں نے اسے بھی کہا کہ آپ بھی کوئی سوال کریں مگر اس نے اس مرتبہ بھی کوئی سوال نہ کیا۔اس کے بعد عصر کی نماز ہوئی۔عصر کے بعد حضرت خلیفہ اول کے درس میں ہم شامل ہوئے۔اس درس سے وہ اس قدر متاثر ہوا کہ اسے یقین نہیں آتا تھا کہ یہ قرآن مجید کی تعلیم ہے جو بیان کی جارہی ہے۔وہ سمجھتا تھا کہ یہ حضرت مولوی صاحب کے اپنے خیالات ہیں۔جب آپ درس سے فارغ ہوئے تو اس میرے دوست نے حضرت مولوی صاحب سے سوال کیا کہ جب خدا تعالیٰ کی صفت رحمن رحیم ہے تو ایک جانور کو ذبح کر دینا یہ کہاں کی رحمانیت اور رحیمیت ہے؟ آپ نے فرمایا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اسی رحمن اور رحیم خدا نے ایسے جانوروں کو بھی پیدا کیا ہے جو دوسرے چھوٹے جانوروں کو اپنا لقمہ بنالیتے ہیں۔کیا ایسے جانور رحمن اور رحیم خدا کی مخلوق نہیں؟ وغیرہ وغیرہ اس قسم کے جوابات سے اس پر بڑا اثر ہوا۔مغرب وعشاء کے درمیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس عرفان میں شامل ہوئے۔دوسرے روز پھر حضرت خلیفہ اول کے مطب میں جا بیٹھے اور جب نماز ظہر کیلئے میں نے وضو کرنا شروع کیا تو پہلی مرتبہ اس نے بھی وضو کیا اور نماز میں شریک ہوا۔نماز کے بعد اس نے بیعت بھی کر لی۔آپ نے ایک واقعہ یوں بیان فرمایا کہ ہمارے گھر کے سامنے ایک پہلوان رہا کرتا تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں بہت گستاخیاں کیا کرتا تھا۔کہا کرتا تھا کہ نعوذ باللہ آپ کے جسم میں کیڑے پڑ گئے تھے۔چند دن کی بات ہے۔رات نہانے کے بعد گیلا کپڑا اسکھانے کے لئے اس نے اپنے مکان کی دوسری منزل پر کھڑے ہو کر سامنے کے درخت پر کپڑا ڈالنا چاہا مگر پاؤں جو پھسلا تو دھڑام سے گلی کے فرش پر گرا۔صبح جب میں دفتر جانے لگا تو پولیس پہنچ چکی تھی۔جب چار بجے واپس آیا تو تفتیش مکمل ہونے کے بعد میرے سامنے اس کی لاش پر سے کپڑا اٹھایا گیا یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ سخت گرمی کا موسم ہونے کی وجہ سے سارا جسم کیڑوں سے بھرا ہوا تھا۔حضرت میاں عبدالرشید صاحب نے بیان کیا کہ لنگے منڈی میں ہمارے مکانوں کے سامنے جو چھوٹی سی مسجد ہے اس وقت حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب کی مسجد کہلاتی تھی۔حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب نے کابل جاتے ہوئے اسی مسجد میں قیام فرمایا تھا۔آپ سارا دن اور ساری رات عبادت میں مشغول رہتے۔جب انہیں ہمارے والد صاحب کہتے کہ آپ آرام بھی کیا کریں تو آپ