تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 304 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 304

تاریخ احمدیت۔جلد 24 304 سال 1967ء تھی۔نارووال میں جب ہم پڑھا کرتے تھے جو ایک بارونق شہر تھا، بچپن کے تصور کے ساتھ قادیان کے متعلق ہمارے دماغوں میں یہ تصور تھا کہ حضرت مہدی کا شہر بہت بارونق شہر ہو گا۔مگر اس میں کچھ بھی نہ تھا۔طبیعت اُداس ہونے لگی۔مگر چھ ماہ نہیں گزرے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیضان نے ہماری رُوحوں میں کچھ ایسا جادو بھرا اثر کر دیا کہ ہم دونوں بھائیوں نے با قاعدہ تہجد پڑھنی شروع کر دی۔اور گھنٹوں نماز میں کھڑے رہتے اور سجدوں میں پڑے رہتے اور مطلق طبیعت سیر نہ ہوتی۔ہمارے اساتذہ ہماری اس حالت سے اچھی طرح واقف اور گواہ ہیں۔ہماری یہ کوشش بھی ہوتی کہ سحری کے وقت ہمیں کوئی نماز پڑھتے نہ دیکھ سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بالعموم نمازوں کے بعد ا کثر مسجد مبارک میں بیٹھ کر گفتگو فرمایا کرتے تھے اور ہم بورڈنگ کی پابندیوں کو تو ڑ کر حضور کے ساتھ نماز میں شریک ہوتے۔اور حضور کی باتوں کو بڑے شوق سے سنتے۔میری عمر کوئی پانچ چھ سال کی ہوگی کہ رعیہ کے شفاخانہ کے احاطہ میں ہمجولیوں سے کبڈی کھیل رہا تھا۔ایک ساتھی کو زمین پر گرا کر گھر کی طرف بھاگا۔عصر کا وقت تھا کہ والدہ صاحبہ چاچی میں وضو کر کے نماز پڑھ رہی تھیں۔اور وہ چاہچی دروازہ کی دہلیز کے سامنے پڑی ہوئی تھی۔دہلیز سے جو ٹھوکر لگی تو میری ٹانگ دوہری ہو کر میرا گھنا چاچی کے اندر گڑ گیا۔جس پر میں بے ہوش ہو گیا۔یہ بھی یاد نہیں کہ میرا گھٹنا کب چاچی سے نکالا گیا۔اور کب مجھے ہوش آیا۔لیکن یہ مجھے یاد ہے کہ نوکر نے مجھے اٹھایا۔اور میں اس وقت رورہا تھا۔یہ چوٹ ایسی سخت تھی کہ جس نے مجھے چلنے پھرنے سے معطل کر دیا۔کیونکہ گھٹنے کا جوڑ نکل گیا تھا۔اور مختلف ڈاکٹروں کو دکھایا گیا۔یہانتک کہ وہ وقت آگیا کہ والد صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔اور حضور کی خدمت میں میرے لئے دعا کی درخواست کی۔غالبا ۱۹۰۲ء میں ڈاکٹر ہیگو سیالکوٹ کے سول سرجن ہوئے۔اور وہ شفاخانہ رعیہ کا معاینہ کرنے کے لئے آئے۔میں اس وقت سکول سے، جو شفا خانہ کے احاطہ میں ہی تھا۔بستہ اُٹھائے گھر کو آرہا تھا۔کہ میں نے شفاخانہ کے برآمدے میں ایک انگریز کو کھڑے دیکھا۔والد صاحب مرحوم بھی ساتھ کھڑے تھے۔شفاخانہ کا ایک ملازم میری طرف آیا اور مجھے اپنے ساتھ شفاخانہ لے گیا۔ڈاکٹر ہیکو نے میرے گھٹنے کو دیکھا۔اور رحم اور شفقت کے جذبات اس کے چہرہ پر نمایاں تھے۔اس کے متعلق اس نے والد صاحب مرحوم سے گفتگو کی۔چنانچہ مجھے انہی دنوں سیالکوٹ لے جایا گیا۔اور میرے گھٹنے پر وقفہ وقفہ کے بعد کلور و فام سُونگھا کر آپریشن کیا گیا۔ٹانگ میں اسقدر فرق ہو گیا کہ میرا پاؤں زمین پر لگنے لگا۔