تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 305
تاریخ احمدیت۔جلد 24 305 سال 1967ء لیکن کمزوری اتنی تھی۔کہ میں بغیر سہارے کے چل نہیں سکتا تھا۔اس لئے مجبوراً مجھے بیساکھی کے سہارے چلنا پڑتا تھا۔اسی حالت میں قادیان آیا۔جب والد صاحب مرحوم تین ماہ کی رخصت لیکر آئے ہیں۔تب گرمی کا موسم تھا۔ہم حضرت صاحب کے گھر میں رہا کرتے تھے۔ایک دن عصر کے بعد جب حضرت ( اماں جان ) اور گھر کی مستورات باغ کی طرف سیر کو گئی ہوئی تھیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تنہا دیکھ کر پنکھا ہاتھ میں لے لیا۔اور حضور کے پاس آکر حضور کو پنکھا کرنا شروع کر دیا۔حضور اس وقت ایک چٹائی پر جو زمین پر بچھی ہوئی تھی ، بیٹھے ہوئے تھے۔بدن پر باریک ململ کی قمیص تھی سر سے ننگے تھے۔میں نے جب پنکھا کرنا شروع کیا۔تو حضور کے سر کے باریک بال ادھر اُدھر لہرانے لگے۔مسیح موعود علیہ السلام کے حلیہ والی حدیث میں سُن چکا تھا۔اس لئے مجھے خیال آیا کہ یہ وہی بال ہیں جن کے متعلق حضرت نبی کریم ﷺ نے پیشگوئی فرمائی ہوئی ہے۔اس لئے مجھے خیال آیا کہ حضور کے بالوں کو بوسہ دوں مگر شرم و حیا مانع رہا۔ادھر مجھے یہ خیال آیا اُدھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ مڑ کر دیکھا آپ مسکرائے اور فرمایا کہ آپ تھک گئے ہوں گے آپ بیٹھ جائیں۔(حضور چھوٹوں کو بھی آپ کے لفظ سے مخاطب فرمایا کرتے تھے ) آپ نے مجھے پوچھا کہ آپ کے گھٹنے کا کیا حال ہے۔جو حال تھا میں نے بتایا۔اور دعا کے لئے عرض کی۔حضور نے فرمایا کہ میں نے آپ کے لئے بہت دعا کی ہے۔اور پھر میرے چھوٹے بھائیوں کے نام دریافت فرمائے۔حضور اس وقت کچھ لکھ رہے تھے۔میں وہاں سے اُٹھ کر چلا آیا۔اُنہی دنوں میں جبکہ ایک ہفتہ بھی نہ گذرا تھا کہ میری بسا کبھی کو ( جس کے سہارے میں چلا کرتا تھا) ڈاکٹر فضل الدین صاحب وٹرنری جو اُس وقت میرے ہم جماعت تھے، نے کھیلتے ہوئے توڑ دیا۔جس پر بھائی عبدالرحیم صاحب سپرنٹنڈنٹ بورڈنگ نے اُنہیں سزا دی۔قادیان میں بانس کی بساکھی کی تلاش کی گئی۔مگر نہ ملی آخر عبدالرحیم صاحب یکہ بان کو جو آج کل مہمان خانہ میں باورچی کا کام کرتے ہیں ،۲ آنے دئے کہ بٹالہ سے بانس لے آئے مگر ہیں،۲ اس کو بھول ہوئی کہ ہفتہ عشرہ تک بانس نہ لا سکا۔اس اثنا میں سرکنڈے کے سہارے سے دیواروں کو پکڑ پکڑ کر چلتا رہا۔اور محسوس کرنے لگا کہ میری ٹانگ اور پاؤں طاقت پکڑ رہے ہیں۔اس کے بعد مجھے سہارے کے لئے بساکھی بنانے کی ضرورت ہی نہ رہی۔اور تصرف الہی کچھ ایسا ہوا کہ بغیر چھڑی کے چلنے لگ گیا۔مجھے کامل یقین ہے کہ یہ حضور علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ تھا۔کہ جس نے غیر معمولی طور پر یہ تصرف