تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 303 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 303

تاریخ احمدیت۔جلد 24 303 سال 1967ء آپ کے والد حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کلر سیداں تحصیل کہوٹہ ضلع راولپنڈی کے ایک مشہور خاندان سادات سے تھے۔آپ نے ۱۹۰۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی توفیق پائی۔حضرت شاہ صاحب نے ۴۰ - ۱۹۳۹ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک کی چشم دید روایات قلمبند فرمائی تھیں۔ان میں سے بعض روایات آپ کے الفاظ میں پیش کی جارہی ہیں :۔میں اور سید حبیب اللہ شاہ صاحب ۱۹۰۳ء میں قادیان بغرض تعلیم آئے۔جب ہم آئے تو ہم بڑے باغ کے دیکھنے کے شوق میں اسکی طرف گئے۔ابھی باغ کے قریب ہی پہنچے تھے کہ ایک بوڑھے سفید ریش صاحب ہاتھ میں تسبیح لئے ہمیں ماں بہن کی گالیاں دیتے ہوئے ہماری طرف لپکے۔ہم دونوں بھائی حیران ہو کر واپس بورڈنگ چلے آئے ،مگر وہ ہمارے پیچھے ہی آرہے تھے۔میں نے کسی سے دریافت کیا کہ یہ بوڑھا شخص کون ہے۔تو مجھے بتلایا گیا کہ یہ علی شیر ہے۔اور حضور علیہ السلام کا سخت دشمن ہے۔لطیفہ یہ ہے کہ گندی گالیوں کے ساتھ تسبیح کے دانے بھی زورزور سے ہل رہے تھے۔۱۹۰۳ء میں جب والد صاحب حضرت سید ڈاکٹر عبدالستار صاحب نے مجھے اور میرے بھائی کو برائے تعلیم بھیجا۔تو ہم رعیہ سے قادیان کی طرف بڑے شوق اور خوشی خوشی سے روانہ ہوئے تھے۔اُس وقت ہماری عمرا ار اور ۳ سال کے لگ بھگ تھی۔اس شوق کا جو ہمارے اندر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھنے کا تھا دوسرا اندازہ نہیں لگا سکتا۔کیونکہ جب ہم بہت چھوٹے تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کا علم ہمارے گھروں میں نہیں پہنچا تھا تو اُس وقت ہم اپنی والدہ سے سُنا کرتے تھے کہ حضرت امام مہدی عنقریب پیدا ہونے والے ہیں۔اور جمعہ کے دن ہم بچوں کو اپنے پاس اکٹھا کر لیا کرتیں۔اور سورہ کہف پڑھتیں اور سورہ کہف پڑھ کر ہمیں فرماتیں کہ یہ میں اس لئے پڑھتی ہوں کہ اس کے پڑھنے سے انسان دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔بچپن کے اس قسم کے تصورات کے ساتھ جب ہمیں معلوم ہوا کہ ہم قادیان میں اس مہدی کے پاس تعلیم حاصل کرنے کے لئے جارہے ہیں تو اس سے ہمارے جذبات کا اندازہ بآسانی کیا جاسکتا ہے۔مگر ہمارے اس شوق کو صدمہ سا پہنچا جب ہم چوہڑوں کی ٹھٹھی کے پاس پہنچے۔جواب دارالصحت کہلاتی ہے۔اور جس کے مکین اب قریباً سارے مسلمان ہیں۔جب ہم قادیان پہنچے تو قادیان کو بے رونق اور سُنسان سا گاؤں پایا۔مدرسہ میں داخل ہوئے تو اس میں بھی کوئی رونق نہیں