تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 302 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 302

تاریخ احمدیت۔جلد 24 302 سال 1967ء میاں مبارک احمد صاحب مرحوم جن دنوں پرائمری کی دوسری جماعت میں پڑھتے تھے۔میں بھی ان کا ہم مکتب تھا اور ہم اکھٹے ہی بیٹھتے۔ہمارے استاد مولوی سکندر علی صاحب مرحوم بھینی والے ہوتے۔چھوٹی جماعتوں کے بیٹھنے کے لئے ٹاٹ اور اساتذہ کیلئے چٹائیاں ہوتیں۔ایک دن اتفاق سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو جاتے ہوئے محض صاحبزادہ صاحب کو دیکھنے کمرے میں تشریف لے آئے۔مگر یہ دیکھ کر کہ لڑکوں کے بستے جن میں عربی قاعدے بھی ہوتے زمین پر پڑے ہیں۔حضور نے واپس جا کر منتظمین کو چھوٹی بچیں مہیا کرنے کا ارشادفرمایا جو چند دنوں میں تیار ہوکر آگئیں۔ایک بستر کی دری تو اسی وقت حضور نے ہمارے بیٹھنے کے لئے بھجوا دی تھی۔خاکسار نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضور کی زندگی کے آخری ایام میں اندرون خانہ مغرب کی نماز پڑھتے دیکھا۔حضور کے دائیں جانب تخت پوش پر حضرت اماں جان کھڑی ہوتیں اور اس کے پیچھے دوسری مستورات اور ہم چھوٹی عمر والے بچے بھی شامل نماز ہوتے“۔ایک لمبے عرصہ سے بیمار چلے آرہے تھے۔لاہور اپنے بیٹے ملک رشید صاحب کے ہاں مقیم تھے۔وہیں آپ کی وفات ہوئی۔جنازہ ربوہ لایا گیا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔قطعہ صحابہ بہشتی مقبرہ ربوہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔آپ کی ایک بیٹی مکرم میاں عبدالحی صاحب مجاہد انڈونیشیا کی اہلیہ ہیں۔اولاد ا۔ملک رشید احمد صاحب ۲۔ملک سعید احمد صاحب ۳۔ملک بشیر احمد صاحب ۴۔عزیزہ اختر صاحبه ۵۔ملک منیر احمد صاحب ۶۔رضیہ کوثر صاحبہ ۷۔ملک سلیم احمد صاحب ۸۔ملک نسیم احمد صاحب حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب 56 ولادت: ۱۳ مارچ ۱۸۸۹ء بیعت و زیارت: ۱۹۰۳ء وفات : ۶/۱۵ امئی ۱۹۶۷ء حضرت شاہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدیم اور جلیل القدر صحابی ڈاکٹر سید عبدالستار صاحب کے عظیم المرتبت صاحبزادے، حضرت مصلح موعود کے برادر نسبتی اور حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمۃ اللہ تعالیٰ کے سگے ماموں تھے۔آپ نے اپنی ساری زندگی اسلام کے لئے وقف رکھی اور صدر انجمن احمدیہ کے ناظر کی حیثیت سے متعدد محکموں میں ایک لمبے عرصے تک ایسی شاندار اور قابلِ قدر خدمات سرانجام دیں جنہیں سلسلہ کا کوئی مورخ نظر انداز نہیں کر سکے گا۔