تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 301 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 301

تاریخ احمدیت۔جلد 24 301 سال 1967ء تھے۔اور آپ کے ہمراہ میں بھی تھا۔مجھے پیاس محسوس ہوئی تو میں نے والد صاحب سے پانی کیلئے عرض کیا۔آپ خاموش رہے۔میں نے پھر عرض کیا۔آپ پھر خاموش رہے۔اور مجھے بھی خاموش رہنے کی تلقین کی۔مگر کچھ تو گرمی کی شدت کے باعث اصرار تھا۔اور کچھ لڑکپن کے باعث کہ مجھے پینے کے لئے پانی دیا جائے۔والد صاحب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت پاک سے علیحدہ نہ ہونا چاہتے تھے۔میں نے پانی کا ایک بار پھر تقاضا کیا تو آپ ادب کے ساتھ مجلس سے اٹھے اور باہر تشریف لے جانے لگے۔اس پر حضور علیہ السلام نے میرے والد صاحب سے دریافت کیا۔منشی جی کہاں جاتے ہیں۔میرے والد صاحب نے عرض کیا کہ حضور بچہ پانی کے لئے تقاضا کر رہا ہے۔اس کے لئے ) پانی لینے جاتا ہوں۔حضور نے فرمایا ٹھہر جائے۔اور تشریف رکھیے۔اور پھر حضور نے بنفس نفیس اٹھ کر ایک گلاس میں غالبا صراحی سے ٹھنڈا پانی لیا۔اور اس میں مصری حل کر کے اس عاجز کو پیار کرتے ہوئے دیا کہ لو پیو۔میں نے یہ ٹھنڈا اور شیریں پانی کیا بلحاظ شدت پیاس کے اور کیا بلحاظ اس کے کہ وہ ٹھنڈا اور شیریں تھا۔اس قدر سیر ہو کر پیا کہ میں اس سے زیادہ پی ہی نہیں سکتا تھا۔اس کے بعد میں نے گلاس اپنے والد صاحب کو دے دیا اور انہوں نے بھی پیا اور وہ فرماتے تھے۔اور میں نے بھی خوب سیر ہو کر پیا۔اسکے بعد قریب ہی ایک دوست نے باقی ماندہ شربت نوش فرمایا۔حالانکہ گلاس صرف ایک ہی تھا۔کوئی نو انچہ لمبا ہو گا۔میں اس کرامت کا زندہ گواہ ہوں۔۱۹۰۴ء میں ہم جب چھوٹے بچے ریتی چھلہ میں کھیلنے جایا کرتے تھے۔ان دنوں سپورٹس کا با قاعدہ کوئی سامان تو وہاں ہوتا نہیں تھا۔گھر یلو بنی ہوئی چیزوں سے اینٹیں وغیرہ کھڑی کر کے کرکٹ یا کوئی اور کھیل کھیلتے۔ایک دن میری کسی غلطی پر محمود ایدہ اللہ تعالیٰ نے تھپڑ مار دیا۔بچپن اور نا سمجھی کا زمانہ تھا۔میں نے جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس شکایت کر دی اتنے میں محمود ایدہ اللہ تعالیٰ بھی آگئے۔حضرت کے دریافت فرمانے پر اپنے سر کو خم کر کے اپنی غلطی کا اعتراف فرمالیا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم (یعنی ملک عزیز احمد صاحب) بھی بدلہ لے سکتے ہو۔لیکن اگر معاف کر دو تو یہ بہتر ہے۔میں نے عرض کیا حضور معاف کیا۔اتنا کہہ کر بھاگ آیا۔اس میں ایک خدائی بھید پوشیدہ تھا۔کیونکہ حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک وقت جماعت کا امام اور خلیفہ بنا تھا۔اور خدا تعالیٰ یہ نہیں چاہتا تھا کہ جس شخص نے اس کی غلامی اختیار کرنی تھی۔اس سے کسی قسم کی بے ادبی سرزد ہو۔