تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 299
تاریخ احمدیت۔جلد 24 299 سال 1967ء حضور المصلح الموعود خلیفۃ المسیح الثانی کی بیماری کے دوران میں والد صاحب اپنے مشورے بھیجتے رہتے تھے۔اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب سے بھی رابطہ تھا۔مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر مرحوم طب میں آپ کے شاگرد تھے۔مولوی عبد القادر صاحب ( سوداگر مل ) سے بھی گہرے تعلقات تھے۔لاہور کی تاریخ احمدیت مرتب کرنے میں اپنے خاندان کے حالات لکھوانے میں بہت مدددی تھی۔آپ جلسہ سالانہ قادیان اور بعد میں ربوہ ہمیشہ شریک ہوتے رہے۔جمعہ کے دن مسجد سب سے پہلے جانے والوں میں ہوتے اور ہمیشہ گھر میں تلاوت قرآن پاک کرتے۔الفضل اور سلسلہ کے دیگر اخبارات رسائل و جرائد زیر مطالعہ رکھتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا قریباً پورا سیٹ ،حضرت خلیفہ المسح الاول اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود کی کتب اور تفاسیر کا پورا ذخیرہ،سلسلہ کا تبلیغی لٹریچر، کتب علماء، اخبارات، رسائل کا بھی ذخیرہ آپ کے پاس تھا۔آپ کے پاس طب یونانی اور ڈاکٹری اور ہومیو پیتھی ، تاریخ ، فلسفہ، ادب، اور شاعری پر پر مشتمل بہت بڑی لائبریری تھی۔جو ۱۹۵۳ء کے فسادات میں ضائع ہوگئی۔ان دنوں مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔اور سخت پریشانی ہوئی۔آپ کو مرتے دم تک اپنی لائبریری کے ضائع ہونے کا دُکھ تھا۔اولاد المصل 50 ا۔عبد الوحید صاحب مرحوم -۲- عبدالسلام صاحب ۳۔عبدالقدیر صاحب ۴- آفتاب احمد صاحب ۵۔ناصر احمد صاحب۔بسم اللہ بیگم صاحبہے۔بلقیس مبارکہ صاحبہ ۸۔بلقیس مطہر بصاحبہ 9۔سارہ جبیں صاحبہ ۱۔مریم صاحبہ ۱۔امۃ الرؤف صاحبہ ۲۔طوبی مشین صاحبہ ۱۳۔طوبی قدسیہ صاحبہ - 51 حضرت ملک عزیز احمد صاحب ولادت : ۱۸۹۶ء بیعت پیدائشی احمدی وفات: ۶ مئی ۱۹۶۷ء آپ حضرت ملک نورالدین صاحب صحابی کے بیٹے تھے اور خود بھی صحابی تھے۔آپ اپنی ایک روایت میں بیان فرماتے ہیں کہ ۱۹۰۷ء میں میرا ایک بھائی فوت ہو گیا تھا جس کی وجہ سے میرے والدین کو ایک صدمہ گزرا۔۔۔۔حضرت والد صاحب مرحوم فورا۔۔۔دوماہ کی رخصت لے کر ہم سب کو قادیان لے آئے۔۔۔۔ایک دن رات کو جب میں پڑھنے کے لئے جارہا تھا تو مجھ پر ایسی غشی آئی کہ دو تین تک ہوش نہ آیا، والدہ