تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 300
تاریخ احمدیت۔جلد 24 300 سال 1967ء صاحبہ کو ہنوز میرے بڑے بھائی کی فوتگی کا صدمہ تھا، میرے اس بیمار پڑ جانے سے اور بھی گھبراہٹ پیدا ہوئی چنانچہ وہ اسی وقت غالبا رات کے دس یا گیارہ بجے ہوں گے کہ حضرت خلیفہ اول کے پاس دوڑی گئیں۔حضرت خلیفہ اول میرے نانا حافظ غلام محی الدین صاحب مرحوم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی ایام میں ڈاک کا کام کیا کرتے تھے، رضاعی بھائی تھے۔حضرت خلیفہ اول اس تعلق کی بنا پر یا اس ہمدردی کے ماتحت جو حضور کو بنی نوع انسان کے ساتھ تھی فوراً والدہ صاحبہ کے ساتھ تشریف لا کر مجھے دیکھا، والدہ صاحبہ کو تسلی دی مگر ساتھ ہی واپس جا کر میرے آقا فداہ روحی کو اطلاع دی، حضور بھی از راه شفقت حضرت خلیفہ اول کے ساتھ تشریف لے آئے ، حضور نے حضرت خلیفہ اول کو فرمایا کہ مولوی صاحب! آپ دوا دیں میں دعا کرتا ہوں۔۔۔حضور کی دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ مجھے شفا ہوئی۔53 166 اسی طرح آپ سے بعض اور روایات بھی مروی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں :۔۱۹۰۷ ء کی ہی بات ہے کہ میری والدہ صاحبہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت طعام کی کھانا تناول فرمانے کے لئے جہاں حضور انور رونق افروز تھے، حضور پر نور کے دائیں جانب مجھے بیٹھنے کا موقع مل گیا اور بائیں جانب حضرت خلیفہ اسیح الاول تھے۔اور میرے پہلو میں حضرت والد صاحب تھے۔حضور علیہ السلام نے میرے والد صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے جن کو حضور منشی جی“ کے الفاظ سے یاد فرمایا کرتے تھے ، دریافت فرمایا۔منشی جی آپ کے کتنے بچے ہیں۔میرے والد صاحب نے جواباً عرض کیا۔حضور ! بڑا بچہ تو فوت ہو گیا ہے۔دوسرا یہ عزیز احمد حضور کے پہلو میں حاضر ہے۔اور تیسرا اس سے چھوٹا باہر کھیلنے گیا ہے۔اس پر حضور علیہ السلام نے میری پشت پر اپنا دست مبارک پھیرا۔اور میری درازی عمر کی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں برکت دے۔حضور علیہ الصلواۃ والسلام کی اس دعا کی برکت ہے کہ یہ عاجز شدید سے شدید اور مہلک سے مہلک بیماریوں کے پے در پے حملوں کے باوجود شفایاب ہوتا چلا جاتا ہے اور عمر پاتا چلا جاتا ہے۔تیسرا واقعہ بھی غالبا ۱۹۰۷ ء ہی کا ہے۔جب ایک بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت اماں جان کو لینے بٹالہ تشریف لے گئے تھے۔حضرت اماں جان لاہور سے تشریف لا رہی تھیں۔حضور اسٹیشن کے قریب کے ایک تحصیلدار کے مکان پر قیام فرما تھے۔گرمیوں کے دن تھے۔حسن اتفاق سے خدام حضرت صاحب کے حضور حاضر تھے۔منجملہ دیگر خدام کے میرے والد بزرگوار مرحوم بھی۔ر