تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 295
تاریخ احمدیت۔جلد 24 295 سال 1967ء اخبار بدر قادیان نے آپ کی وفات پر لکھا۔مرحوم بابا غلام محمد صاحب بہت نیک، جوشیلے مخلص بزرگ تھے۔دعا گو، تہجد گزار اور صوم وصلوۃ نیز سنت نبوی کے بڑے ہی پابند تھے۔سلسلہ کی ہر مالی تحریک پر خلوص اور محبت کے ساتھ لبیک کہتے اور اپنی توفیق کے مطابق حصہ لیتے۔درویشی کا زمانہ بڑے ہی صبر او رسکون اور اخلاص سے گزارا۔مرحوم کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی۔حضرت خواجہ محمد عثمان صاحب بھیروی ولادت: ۱۹۰۰ء بیعت : ۱۹۰۷ء 45 وفات: ۳ مئی ۱۹۶۷ء آپ بھیرہ میں پیدا ہوئے۔کہتے ہیں آپ کی عمر ابھی ۶/۷ سال ہی تھی کہ حضرت حاجی حافظ حکیم مولوی فضل الدین صاحب (وفات ۱۸اپریل ۱۹۱۰ء بدر۷ تا ۲۱ را پریل ۱۹۱۰ء صفحه ۱۵) بھیروی آپ کو قادیان لے گئے اور اسکول میں داخل کروا دیا۔جہاں انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔اور زمانہ طالبعلمی میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی۔فرمایا کرتے تھے کہ زمانہ بچپن میں جب کوئی مہمان حضور علیہ السلام کی بیعت کا شرف حاصل کرنے لگتا تو ہم بھی اپنے ہاتھ رکھ دیتے۔حضرت خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب نے فیروز پور میں آپ کو بطور کلرک ملازم کرا دیا۔آپ اکا ؤنٹس برانچ میں تھے۔بڑے دیانتدار اور محنتی تھے۔۱۹۵۴ء میں اکاؤنٹ آفیسر کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے تھے۔آپ نہایت سادہ طبیعت، حلیم طبع ، ملنسار اور قرآن پاک سے والہانہ محبت رکھنے والے تھے۔اور احمد یہ لٹریچر پر بھی خاص عبور رکھتے تھے۔نمازوں کو حتی الامکان با جماعت ادا کر تے خدمت خلق کر کے بڑے خوش ہوتے تھے۔اہلِ محلہ کا سودا سلف بھی خرید لاتے تھے۔ہر جماعتی کام میں حصہ لیتے اور ان کو بڑی ذمہ داری اور کوشش سے نباہتے۔آپ صدر جماعت احمد یہ قصور بھی رہے ہیں۔اولاد: ا۔شیخ محمد اسلم صاحب ۲۔شیخ محمد اکرم صاحب ۳۔شیخ محمد اشرف صاحب ۴۔شیخ ڈاکٹر محمد سلیمان صاحب فیصل آباده - شیخ محمد اسماعیل صاحب کراچی ۶۔شیخ محمد اسحاق صاحب لا ہورے۔مبارکہ بیگم صاحبه ۸۔ناصرہ بیگم صاحبہ ۹۔رضیہ بیگم صاحبہ ۱۔امتہ الحفیظ صاحبہ