تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 260 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 260

تاریخ احمدیت۔جلد 24 260 سال 1967ء حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے یہ زمانہ محمود کا زمانہ ہے“ کے زیر عنوان حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خلافت کی عظمت کے بارے میں الفضل ۱۰نومبر ۱۹۶۷ء میں جو حقیقت افروز مضمون تحریر فرمایا وہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔آج میرا خیال مجھے کہاں سے کہاں لے گیا۔دل کی کیفیت بیان میں نہیں آسکتی۔سالہا سال گذر چکے ہیں مگر وہ خواب اتنا روشن تھا کہ آج ہی گویا دیکھا ہے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی میرے پیارے میرے چاہنے والے بھائی کی خلافت کا بالکل ابتدائی زمانہ تھا کہ میں نے خواب میں حضرت مسیح موعو علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہیں پورے لباس میں کوٹ عمامہ پہنا ہوا ہے، میں پاس کھڑی ہوں۔میں نے پوچھا کہ مجھے بتادیں میرے بھائیوں میں سے وہ خاص موعود لڑ کا کونسا ہے؟ آپ نے مسکراتے لبوں سے مسکراتی اور خوشیوں اور بشارتوں سے بھر پور نظر سے مجھے دیکھا (وہ آنکھیں وہ خاص نظر، پیار کی نظر میں کبھی بھول نہیں سکتی ) اور فرمایا کہ میری دعاؤں سے تو سارے ہی اپنے اپنے وقت پر فیض پائیں گے مگر۔یہ زمانہ محمود کا زمانہ ہے 66 اس خواب کے بعد میرے دل کو یقین ہو گیا کہ وہ خاص مصلح موعود میرے بڑے بھائی ہی ہیں۔پھر بہت عرصہ گذر جانے کے بعد یہ امر اللہ تعالیٰ سے بشارت پا کر خودان پر ظاہر ہوا اور تمام جماعت پر۔بعض خاص لوگ تو پہلے بھی سمجھتے تھے مگر وقت اس کے اعلان کا جب آیا تو یہ بات سب پر واضح ہو گئی۔ان کا زمانہ ان کے عمر بھر کے کام ایک ایک قدم جو انہوں نے اٹھایا اس امر کی شہادت ہیں کہ وہ وجودان سب بشارتوں اور پیشگوئیوں کے ظہور کا روشن ثبوت تھا۔اندھوں کو تو سورج بھی نظر نہیں آتا۔ان کے سمجھنے نہ سمجھنے کا سوال ہی نہیں ، تمام عمر جس عاشق یار ازل نے خدمت دین میں گزار دی۔اپنی تمام طاقتیں اسی کوشش میں صرف کر دیں کہ اسلام کا علم ، توحید کا پرچم دنیا کے چپہ چپہ پر گاڑ دیا جائے۔جو عہد کیا تھا دم آخر تک نبھا دیا وہ بھولنے کی چیز نہیں ہے۔وہ اپنے مولا کے پاس زندہ ہے۔وہ ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔اس کا نام ، اس کا کام زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔انشاء اللہ تعالی۔اب ان کے احسانوں کا بدلہ ان کی محبت اور یاد کا تقاضہ یہی ہے اور یہی خدمت کر کے ہم ان کی روح پاک کو بشارتوں پر بشارتیں پہنچا سکتے ہیں کہ ہم ان کے لئے دعاؤں سے کبھی غافل نہ ہوں ، جن امور دین کی تحمیل کی ان کو تڑپ رہتی تھی ان خدمات سے کبھی روگرداں نہ ہوں۔کبھی ہمارے قدم ست نہ ہوں۔