تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 240 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 240

تاریخ احمدیت۔جلد 24 240 ختم شد برنفس پاکش ہر کمال لاجرم شد ختم پیغمبری (۲) بسمل - عبید اللہ گورداسپوری ہر سال 1967ء 184 مولا نا عبیدالله بن مولانا مظہر جمال در بمبئی پیش ایرانیان فارسی یاد گرفت و سپس کتابخانہ ہائے شہر ہائے رامپور ، بھوپال و حیدر آباد دکن را مورد بازدید قرار داده بوطن خویش بازگشت۔مہارت تامی در شعر داشت واشعار بسیار زیبای را می سرود گفته اند که سنجر ملک الشعرای ایران با بسمل ملاقات نمود واشعارش را مورد تقدیر قرار داده و گفت : "والله من بهتر از و نتوانم گفت، بسمل در سال ۱۹۳۸ میلادی در شهر قادیان عرصه وجود را ترک گفت - تصنیفاتش زیاد است اما کتابهای زیر معروفیت دارد: ترجمه (حضرت) مولانا عبید اللہ بکل بن مولانا مظہر جمال نے بمبئی میں ایرانیوں سے فارسی سیکھی۔ازاں بعد رامپور، بھوپال اور حیدرآباد دکن کے کتب خانوں سے استفادہ کیا اور وطن واپس لوٹے۔آپ کوفن شاعری میں مہارت تامہ حاصل تھی اور آپ کے شعر نہایت بلند پایہ ہوتے تھے۔بیان کرتے ہیں کہ جب ایرانی ملک الشعراء سنجر کی ملاقات بہل سے ہوئی تو اس نے کلام بہل کی تعریف کرتے ہوئے کہا ” بخدا میں ان سے بہتر نہیں کہہ سکتا ، بسمل نے ۱۹۳۸ء میں قادیان میں وفات پائی۔آپ کی تصنیفات کی تعداد کافی ہے معروف تر یہ ہیں:۔ا۔اتالیق فارسی ۲- ترجمان پارسی ۳ ارجح المطالب ۴۔حیات بسمل ۵ - مرأة الاسلام حق الیقین نمونہ کلام جرم بیرون از حساب و فسق بیرون از شمار آنچه کس نارد بدر گه تو آن آورده ام خام طبعی ، ست خوئی، اجر جوئی، بی عمل خود غرض جرم گدای ناتوان آورده ام باز بسمل از رو فرزانگی رخت یاران بر سر دیوانگی وه چه گویم از خود بیگانه شد مست شد، بدمست شد، دیوانه شد 183 (۳) مولانا غلام رسول۔گجراتی ”مولانا غلام رسول پسر میاں کرم دین در دبی بنام را یکی از نواحی گجرات در سال ۱۸۷۷ میلادی