تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 241
تاریخ احمدیت۔جلد 24 241 سال 1967ء متولد گردید وفارسی از میاں محمد دین کشمیری آموخت و سکندر نامه و آثار نثری ابوالفضل را هم در خدمت استاد خود یاد گرفت۔سپس بحضور مولانا امام دین رسیده مثنوی مولانا روم را یاد گرفت - تصانیف متعددی دارد که عبارتند از :۔حیات قدسی، اظہار حقیقت توحید باری تعالی، تنقید الحقائق وغیرہ اشعار خوبی را بزبان فارسی می سرود و دارای ذوقی بسیار لطیف و عالی بود دیوانش هنوز بچاپ نرسیده است۔اما اشعاری چند در زیر قل می گردد که در مدح یکی از دوستان عزیزی خود سروده است: ترجمہ: ( حضرت ) مولانا غلام رسول ابن کرم دین گجرات کے نواحی گاؤں راجیکی میں ۱۸۷۷ء میں پیدا ہوئے۔فارسی زبان میاں محمد دین کشمیری سے سیکھی اور انہیں سے سکندر نامہ اور ابوالفضل کی نثر کی کتابیں پڑھیں۔اس کے بعد مثنوی مولانا روم کی تعلیم مولانا امام دین سے حاصل کی۔آپ کی متعدد تصانیف ہیں۔کچھ کے نام درج ہیں۔حیات قدسی، اظہار حقیقت، توحید باری تعالی ، تنقید الحقائق وغیرہ۔فارسی میں شعر خوب کہتے تھے اور نہایت لطیف بلند پایہ ذوق رکھتے تھے۔آپ کا دیوان تا حال غیر مطبوعہ ہے۔چند اشعار جو آپ نے اپنے ایک عزیز دوست کی مدح میں کہے تھے نقل کئے جاتے ہیں۔میر صاحب محمد اسماعیل آنکه می بود هیچو ابن خلیل وصف او در بیان نمی گنجد گر بیانش بیانش کنیم بالتفصیل فطر تش فطرت ہمہ ابرار ذات او متصف بوصف جمیل قدسیان را شده دلش منزل عارفان را برسم او تبتیل منزل قدس بود منزل او بر زبانش حقائق از تنزیل (۴) مظہر محمداحمد پنجابی 186 پدرش ظفر احمد در کپور تصله مامور امور آن ایالت بود و منصب منشی گری را بعهده خود داشت - محمد احمد با تفاق پدر خود بمجالس سخن و شعر حضور بهم میرسانید و در همان زمان علاقه ای نسبت به شعر پیدا کرد۔پدرش میخواست که محمد احمد از غزل اجتناب کند و فقط بسرودن نظم با مثنوی با پر داز دو ہمیں جہت با واجازه داد که شاعری آغاز کند در ایام جوانی خود به لاهور رسید و بعد از پایان تحصیلات خود به شغل وکالت