تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 214 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 214

تاریخ احمدیت۔جلد 24 214 سال 1967ء کو نہیں بلکہ پاکستان کی ہر جماعت اور فرقے کو کرنا چاہئیے۔مجھے کسی فرقے یا جماعت سے عداوت نہیں۔کیونکہ ہر فرقہ اپنے رنگ میں اسلام ہی کا نام تو لیتا ہے۔اگر تبلیغ اسلام کے سلسلے میں کسی ملک میں جماعت احمد یہ ایک ہزار پمفلٹ تقسیم کرتی ہے اور دوسری جماعت تین ہزار پمفلٹ تقسیم کرتی ہے تو مجھے خوشی ہوگی۔کیونکہ اس طرح اسلام کے بارے میں چار ہزار پمفلٹ تو تقسیم ہو جائیں گے۔اسی طرح مبلغین کی صورت ہوگی۔میں گشتی کا نہیں دوڑ کا قائل ہوں۔کیونکہ گشتی میں تو سارا زور مد مقابل کو چاروں شانے چت گرانے میں لگایا جاتا ہے لیکن دوڑ میں اپنے آپ کو آگے لے جانے پر صرف ہوتا ہے۔آج تبلیغ اسلام کے لئے گشتی کی نہیں دوڑ کی ضرورت ہے، تبلیغ اسلام کے سلسلے میں جماعت احمدیہ کی کوششوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ”مشن کے بارے میں مغربی تصور اور اسلامی تصور میں بنیادی فرق ہے۔عیسائیت کے مشن میں خصوصی طور پر مشنری مقرر کئے جاتے ہیں۔جنہیں بڑی بڑی تنخواہیں ملتی ہیں۔انہیں پوری پوری آسائشیں حاصل ہوتی ہیں۔لیکن اسلام کے مشن میں مسلمان مشنری ہوتا ہے۔یہ اس کا مذہبی فریضہ ہے کہ وہ اسلام کی تبلیغ کرے۔یہی وجہ ہے کہ یورپ اور افریقہ میں جس کونے میں جو مسلمان بھی رہتا ہے وہ اسلام کی تبلیغ کو اپنا فرض سمجھ کر کرتا ہے۔انہوں نے ایک واقعہ بتایا کہ ڈنمارک کا ایک مسلمان جوڑا اپنے دفتری اوقات کے بعد سارا وقت اسلام کی تبلیغ میں صرف کرتا ہے۔دونوں کو ایک ایک ہزار کرونے (روپے تنخواہ ملتی ہے۔ان دو ہزار روپوں میں سے ایک ہزار روپے ٹیکس کے طور پر چلے جاتے ہیں اور ایک ہزار روپے میں دونوں میاں بیوی گزر اوقات کرتے ہیں۔وہ شخص دور دراز کے لوگوں کو ٹیلیفون پر اسلام کی برکات بتاتارہتا ہے۔ایک بار ایسا بھی ہوا کہ اسے ٹیلیفون کا ماہانہ بل ایک ہزار کرونے ( روپے) موصول ہوا۔جو اس نے خوشی سے ادا کر دیا۔ڈنمارک میں بیٹھے ہوئے اس مسلمان کوکوئی لالچ نہیں۔اسے صرف وحدہ لا شریک پر بھروسہ ہے کہ وہ اسے اس کے ہر فعل کا اجر دے گا۔کوپن ہیگن میں مسجد ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں احمد یہ خواتین کے چندے سے ایک مسجد تعمیر ہوئی ہے جس کا افتتاح 9 جولائی ۱۹۶۷ء کو مرزا صاحب نے اپنے ہاتھوں سے کیا۔اس مسجد کا نام "نصرت جہاں رکھا گیا ہے اور احمد یہ خواتین کے چندے سے بنے والی یہ تیسری مسجد ہے۔پہلی دو مساجد لندن