تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 215
تاریخ احمدیت۔جلد 24 215 سال 1967ء اور ہیگ میں ہیں۔مسلمان مبلغین کی بات جاری تھی کہ درمیان میں کوپن ہیگن کی مسجد کا ذکر آ گیا۔مرزا صاحب نے کہا کہ میں جس روز کوپن ہیگن پہنچا۔اسی روز راج مزدور مسجد کو فنشنگ بیچ دے رہے تھے۔میں نے یونہی انجینئر سے پوچھا کہ ان مزدوروں کی اجرت کیا ہے تو اس نے بتایا کہ ۳۲ کرونے ( روپے فی گھنٹہ مرزا صاحب کہنے لگے۔اس کے برعکس پاکستان سے گئے ہوئے اس مبلغ کو جس کی نگرانی میں وہ مسجد تعمیر ہوئی اور جو امام مسجد بھی ہے صرف پندرہ پونڈ ماہانہ ملتے ہیں بلکہ ایسے تمام مبلغین کو صرف ۱۵ پونڈ ماہانہ ہی ملتے ہیں۔مگر وہ اس عسرت کی زندگی میں بھی راحت محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کے سامنے اللہ کی خوشنودی کا موقف ہے ایک اخباری نمائندے نے سوال کیا کہ آپ یورپ میں زیادہ سے زیادہ مبلغین کیوں نہیں بھیجتے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ ”حکومت زر مبادلہ نہیں دیتی مجھے تو یہ جملہ کھا گیا۔ہم انٹر کانٹی نینٹل ہوٹلوں کے لئے سامانِ آرائش ، شراب، کیبرے اور میزبان لڑکیاں درآمد کرنے پر تو زر مبادلہ خرچ کر سکتے ہیں لیکن تبلیغ اسلام کے لئے ہمارے پاس کوئی زرمبادلہ نہیں (یہاں میں اتنا عرض کردوں کہ میرا کسی فرقہ سے تعلق نہیں۔میں تو لا فرقہ ہوں۔البتہ پاکستان کو سچا اسلامی ملک دیکھنے کا ضرور خواہشمند ہوں )۔آزمائش کے تمیں سال مرزا ناصر احمد صاحب نے کہا کہ آئندہ تمیں سال مسلمانوں کے لئے انتہائی آزمائش کے ہیں۔ہمیں تمام فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر یورپ کی مادیت اور اخلاقی گراوٹ کا مقابلہ کرنا ہوگا۔مغرب میں عیسائیت کو ایکسپلائیمیٹ کرنے والی ایسی قوتیں کارفرما ہیں جو اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے بڑے بڑے منصوبے بنارہی ہیں اور اسلام دشمن طاقتوں کی ہر ممکن اعانت کر رہی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کا پوری طرح دفاع کیا جائے اور انہیں صراط مستقیم کا پتہ بتایا جائے۔“ انہوں نے کہا کہ افریقہ سفید فام کے استبداد سے آزاد ہونے کے لئے پوری طرح بیدار ہو چکا ہے اور افریقہ میں اسلام جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس سے عیسائیت کے کلیساؤں میں دہشت سی پیدا ہوگئی ہے۔ایسی پیشگوئیاں موجود ہیں کہ پورا افریقہ اور لادینی ایشیا دائرہ اسلام میں داخل ہو جائے گا۔دوران گفتگو میں انہوں نے ایک قصہ بتایا کہ ایک پادریوں کی محفل میں جہاں کچھ دوسرے دانشور بھی موجود تھے ایک عورت نے مجھ سے سوال کیا کہ بچے مسلمان اور سچے عیسائی میں کیا فرق ہے