تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 213
تاریخ احمدیت۔جلد 24 213 سال 1967ء کریں۔میں نے وہاں انہیں متنبہ کیا کہ اگر انہوں نے اللہ کریم کی رہتی کو مضبوطی سے نہ پکڑا اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کو قبول نہ کیا تو اُن کے لئے تباہی منہ پھاڑے کھڑی ہے۔“ کرب کی لکیریں مرزا ناصر احمد کو ان چھ ہفتوں میں مغربی زندگی کو بڑے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور اسی مشاہدے کا اظہار کرتے ہوئے میں نے اُن کے چہرے پر اُس وقت گہرے کرب کی لکیریں دیکھیں۔جب اُنہوں نے بتایا کہ مغربی اخلاق نے ماں، بہن اور بیٹی کی تفریق تک ختم کر دی ہے۔عفت اور حیا جیسے الفاظ سے اب وہ آشنا ہی نہیں ہیں۔لیکن ساتھ ہی انہوں نے جرمنی اور ڈنمارک میں ایسی خواتین بھی دیکھیں جو اسلام قبول کر لینے کے بعد اسی طرح حیا اور شرم کے پردوں میں لپٹی ہوئی ہیں جیسے سچی پاکستانی مسلمان عورتیں۔چاروں طرف بے حیائی کے طوفان میں حیا کا جذ بہ اگر اسلام کا معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟۔مرزا ناصر احمد صاحب نے بتایا کہ انہوں نے چھ ہفتوں میں برطانیہ، سوئٹزر لینڈ ، جرمنی، ہالینڈ اور ڈنمارک کا دورہ کیا اور ان ممالک میں پادریوں اور دوسرے افراد کے اجتماعات کے علاوہ متعدد پریس کانفرنسوں سے خطاب کیا اور اسی طرح ریڈیو، اخبارات اور ٹیلی ویژن کے ذریعے تقریباً دو کروڑ انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا اور انہیں اُن کی تباہی سے باخبر کیا۔انہوں نے کہا کہ اس دورہ میں میری باتوں سے دلچسپی کا یہ عالم رہا کہ بعض ایسے اخبارات نے بھی میری پریس کانفرنس کی پوری پوری کا رروائی شائع کی جو اسلام دشمنی میں اتنے متعصب ہیں کہ لفظ ”اسلام“ تک چھاپنے کے روادار نہیں۔اُن کی ان پر یس کا نفرنسوں کی کامیابی کی وجہ مجھے یہ محسوس ہوئی کہ وہ تکلف اور پروٹوکول کے قائل نہیں ہیں۔مجھے پہلی بار اُن سے ملنے اور گفتگو کرنے کا موقع اسی پریس کانفرنس میں ملا۔وہ ہر ایک سے مزاح کی ہلکی پھلکی چاشنی کے ساتھ یوں بلا تکلف گفتگو کر رہے تھے جیسے وہ سب کو برسوں سے جانتے ہوں۔اسی لئے یہ انفارمل“ پر یس کا نفرنس پون گھنٹے کے بجائے دو گھنٹے تک جاری رہی۔بیرون ملک تبلیغ اسلام بات بیرون ملک میں تبلیغ اسلام کی چلی تو مرزا صاحب نے فرمایا کہ یہ کام صرف جماعت احمدیہ