تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 208
تاریخ احمدیت۔جلد 24 208 اور رحمتوں کے دیکھنے کے بعد جو ذ مہ داریاں آپ پر اور مجھ پر عائد ہوتی ہیں ان سے کو نباہنے کی اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا کرے۔سال 1967ء علمائے سلسلہ کا دور ہ مشرقی پاکستان مورخہ ۰ استمبر ۱۹۶۷ء کو مرکز سلسلہ ربوہ سے تین بزرگان سلسلہ ڈھا کہ پہنچے جن میں محترم مولانا قاضی محمد نذیر صاحب ناظر اصلاح و ارشاد، محترم چوہدری فضل احمد صاحب ناظر دیوان اور محترم چوہدری شبیر احمد صاحب وکیل المال شامل تھے۔تقریباً چار ہفتہ کا یہ نہایت مفید اور کامیاب دورہ ختم کر کے مرکزی و فدا ا راکتو بر ۱۹۶۷ء کو واپس ربوہ پہنچ گیا۔اس دورہ میں متعدد مقامات پر انصار اللہ کے اجتماعات کے علاوہ تربیتی اجلاس نیز سلائیڈز کے ساتھ تقریریں ہوئیں۔اسلامک اکیڈیمی ڈھا کہ میں دو اہم لیکچر ہوئے۔ایک لیکچر محترم مولانا قاضی محمد نذیر صاحب کا تھا۔اس کا عنوان تھا ”اسلام کس طرح دنیا پر غالب آ سکتا ہے۔صدر اجلاس ایک ریٹائرڈ ڈپٹی مجسٹریٹ تھے۔انہوں نے لیکچر کی بہت تعریف کی اور شکریہ ادا کیا۔دوسرا لیکچر مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب کا تھا۔عنوان تھا ”تحریک جدید کے تقاضے۔آپ نے سلائیڈ ز کی روشنی میں اپنا لیکچر دیا۔اس تقریب کی مفصل رپورٹ ایک بنگلہ روز نامہ ”آزاد“ میں شائع ہوئی مجلس انصاراللہ کاآخری اجتماع جواحد نگر میں ہوا اس میں کئی افراد نے بیٹنیں بھی کیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا سفر را ولپنڈی ومری کاسفر استمبر ۱۹۶۷ء کو سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث تین ہفتے کے لئے راولپنڈی اور مری تشریف لے گئے۔یہ پورا سفر دینی و جماعتی مصروفیات میں گزرا۔حضور انور ا استمبر کی صبح 9 بجے ربوہ سے عازم سفر ہوئے اور جہلم میں مختصر قیام فرمایا۔پھر سہ پہر کوراولپنڈی کے لئے روانہ ہوئے تو گوجر خان سے۲ میل کے فاصلہ پر گوجر خان اور چنگا بنگیال کے احباب اور ضلع کی دیگر جماعتوں کے نمائندہ احباب جماعت نے مکرم چوہدری احمد جان صاحب امیر ضلع راولپنڈی کی سرکردگی میں حضور کا والہانہ استقبال کیا۔حضور انور نے سب احباب کو شرف مصافحہ عطا فرمایا اور پھر وہاں سے ضلع کی جماعتوں کے نمائندوں کے ہمراہ جو علیحدہ موٹروں میں سوار تھے ، حضور راولپنڈی روانہ ہوئے۔حضور انور نے شام کے بجکر ہیں منٹ پر راولپنڈی میں قدم رنجہ فرمایا۔راولپنڈی میں محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب