تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 207 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 207

تاریخ احمدیت۔جلد 24 207 سال 1967ء جواب کا اس پر اتنا اثر ہوا کہ پریس کانفرنس کے بعد بھی وہ کئی گھنٹے وہاں ٹھہری رہی اس نے ہمیں نماز پڑھتے دیکھا کئی گھنٹوں وہ ہمارے دوستوں سے باتیں کرتی رہی اور اس نے کہا کہ میں واپس جا کر اس ملاقات، مسجد اور پریس کانفرنس کے متعلق اپنے اخبار میں ضرور ایک مضمون لکھوں گی۔آپ نے فرمایا کہ کوپن ہیگن میں، میں نے پادریوں سے گفتگو کی۔انہوں نے ایک منصوبہ تیار کر کے اور بڑے غور کے بعد بعض سوالات تیار کئے تھے جو وہ مجھ سے پوچھنا چاہتے تھے۔ان سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا کہ جماعت احمدیہ میں آپ کا کیا مقام ہے۔میں نے انہیں جواب دیا کہ تمہارا سوال میرے نزدیک درست نہیں کیونکہ میرے نزدیک جماعت احمد یہ اور میں دونوں ایک ہی وجود ہیں۔یہ دو نام ہیں ایک وجود کے اور جب میں اور جماعت دونوں ایک ہی وجود ہیں تو ” جماعت میں میرا مقام کیا ہے۔کا سوال درست نہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ خلافت راشدہ کی نعمت جب تک کسی قوم میں قائم رکھی جاتی ہے اس وقت تک یہ دونوں وجود علیحدہ نہیں ہوتے۔گوجسم وجان مختلف ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر دل ایک ہی دھڑک رہا ہوتا ہے اُن میں آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا سوائے منافق کے دل کے اور منافق رسول کریم ﷺ کے وقت میں بھی موجود تھے اور اب بھی ہیں اور وہ الہی سلسلوں کے ساتھ ہمیشہ رہتے ہیں۔ان منافقوں کو اگر ہم چھوڑ دیں تو ساری جماعت اور خلیفہ وقت دونوں ایک ہی وجود ہیں۔پریس کی طرف سے کئے گئے ایک سوال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک سوال مجھ پہ یہ ہوا کہ ایک سچے عیسائی اور ایک سچے مسلمان میں کیا فرق ہے تو میں نے جواب میں کہا کہ ایک سچا مسلمان اپنے رب سے ایک زندہ تعلق رکھتا ہے اور اس فقرہ کو سمجھانے کے لئے میں تمہیں ایک مثال دیتا ہوں چنانچہ میں نے ایک احمدی بہن کی مثال دی جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ہی رات میں تین بشارتیں ملیں اور میں نے کہا کہ اس قسم کی ایک مثال بھی عیسائی دنیا میں نہیں مل سکتی۔اس پر سوال کرنے والی خاموش ہوگئی۔آخر پر حضور انور نے فرمایا کہ " غرض کوپن ہیگن کی مسجد کو جسے الہی منشاء کے مطابق مسجد نصرت جہاں کا نام دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے بڑی برکتوں کا موجب بنایا ہے اور اس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قربانیوں کو قبول کیا ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ ان فضلوں