تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 192 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 192

تاریخ احمدیت۔جلد 24 192 سال 1967ء ہے اور اسے ٹیلی فون کا دو ہزار کابل آجائے۔تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ کس قدر اسلام کا در درکھتا ہے وہ شخص۔اگر کوئی شخص اس کو خط لکھے۔اسلام پر اعتراض کرے۔یا اسلام کے متعلق کوئی بات پوچھے اور اس کے خط میں ٹیلی فون نمبر ہے تو وہ ٹیلی فون اٹھا کے اس کو ٹیلی فون کرتا ہے۔۔۔۔جب امام کمال یوسف صاحب کو اس کا پتہ چلا تو انہوں نے کہا کہ یہ تمہارا ذاتی خرچ تو نہیں ہے۔انہوں نے سوچا کہ ایک مہینہ میں دو مہینے کی آمد کے برابر بل وہ کیسے ادا کرے گا۔) تم کو اشاعت قرآن سے جو آمد ہورہی ہے وہ ہمارے پاس جمع ہو رہی ہے میں اس میں سے یہ بل ادا کردوں گا۔سو دوسو کا بل ہو تو وہ خود ہی ادا کر دیتا ہے۔ایک ماہ میں دو ہزار روپے کے بل کا مطلب یہ ہے کہ دو ہزار روپے کا بل جتنا وقت خرچ کرنے پر آتا ہے۔اتنا وقت بھی تو اس نے خرچ کیا نا ؟؟؟ میرا اندازہ ہے کہ کئی گھنٹے روزانہ اوسط بنے گی۔پس بڑی ہی قربانی ہے۔اُس شخص کی جو پورے چندے بھی دیتا ہے اور دین کے کاموں پر بہت سا وقت بھی خرچ کرتا ہے اور اس کے علاوہ گھنٹوں ٹیلیفون پر تبلیغ اسلام کرتا ہے اور ٹیلی فون کا بل بھی اپنی گرہ سے دیتا ہے۔یہ دوست بڑی غیرت رکھنے والے ہیں اسلام کے لئے۔بڑی قربانیاں کرنے والے ہیں اسلام کے لئے۔بڑی محبت رکھنے والے ہیں اللہ سے اور آنحضرت ﷺ سے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اور آپ کے غلاموں سے اور اللہ تعالیٰ کی محبت پانے والے بھی ہیں۔کیونکہ جو خدا کی راہ میں دیتا ہے۔وہ خدا سے اس سے زیادہ حاصل بھی کرتا ہے۔درجنوں ایسے آدمی ہیں۔مرد بھی اور عورتیں بھی جنہوں نے خدا کی راہ میں فدائیت اور ایثار کا نمونہ دکھایا اور اللہ تعالیٰ نے انتہائی محبت اور پیار کا سلوک ان سے کیا اور ان کے سینوں کو اپنے نور سے اور اپنی محبت سے اور آنحضرت ﷺ اور آپ کے فرزند جلیل کی محبت سے بھر دیا اور یہ ایک نمونہ بن گئے ہیں۔“ یورپین احمدیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: ایسی قوم بن گئے ہیں کہ اپنے اخلاص اور تقویٰ اور اس فضل کی وجہ سے اور