تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 193 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 193

تاریخ احمدیت۔جلد 24 193 سال 1967ء اس کی رحمت کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ ان پر نازل کر رہا ہے، اس پیار کی وجہ سے، جس کے وہ نمونے دیکھتے ہیں، یہاں کے مخلص بزرگوں کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہیں۔اب ان کی حیثیت ایک شاگرد کی نہیں رہی وہ شاگرد کی حیثیت سے آگے بڑھ گئے ہیں اور جس طرح یہاں کے مخلصین دنیا کے استاد ہیں اور استاد ثابت ہورہے ہیں۔اسی طرح وہ بھی دنیا کے استاد ثابت ہوئے ہیں اور اگر ہم نے سستی سے کام لیا اور وہ قربانیاں نہ دیں جو ہمیں دینی چاہئیں ایسے احمدی کی حیثیت سے ، جن کا مرکز کے ساتھ تعلق ہے اور جو پاکستان میں رہنے والے ہیں۔نیز اگر ہم نے اپنی نسلوں کی اعلیٰ تربیت نہ کی تو پھر اللہ تعالیٰ تحریک غلبہ اسلام کا مرکز ایسی قوم میں منتقل کر دے گا جو اس کی راہ میں سب سے زیادہ قربانی دینے والی ہوگی۔150 لوکل انجمن احمد ہی کا سپاسنامہ اور حضور کا روح پرور خطاب ۵ ستمبر ۱۹۶۷ء کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک ربوہ میں لوکل انجمن احمدیہ کی طرف سے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی یورپ سے کامیاب مراجعت پر پہلی خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔جس میں اہلِ ربوہ کی طرف سے چوہدری محمد صدیق ایم۔اے صدر عمومی نے حضور کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا۔( یہ سپاسنامہ ایک دو ورقہ کی شکل میں بھی شائع کیا گیا ) جس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ:۔”نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو امام مقرر کیا جاتا ہے اس کے دل میں جماعت کی اور سلسلہ کی محبت پیدا کی جاتی ہے۔ایسے رنگ میں کہ دنیا کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے اور جماعت کے دلوں میں اس کے لئے محبت پیدا کر دی جاتی ہے۔نبی اکرم علیہ کے اس فرمان کا نظارہ میں نے ربوہ 66 سے لنڈن تک اور لنڈن سے واپس ربوہ تک اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔“ ہر جگہ اس للہی محبت کے نہایت دلگداز اور نا قابل فراموش نظارے دیکھے گئے۔چنانچہ حضورانور نے لندن سے روانگی کا ذکر کرتے ہوئے احباب جماعت کی محبت کا تذکرہ فرمایا اور ایک چھوٹے بچے کا واقعہ بیان فرمایا کہ: