تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 191 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 191

تاریخ احمدیت۔جلد 24 191 سال 1967ء کئی ماہ اس انگوٹھی پر رہا تھا اور جو اس کی برکت سے بابرکت بن چکا تھا۔کپڑے کا وہ چھوٹا ساٹکڑا میں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔میرے سامنے پاکستانی احمدی بیٹھے ہوئے تھے اور جرمن احمدی بھی بیٹھے ہوئے تھے۔میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ کوئی جرمن اس کپڑے کو بطور تبرک مجھ سے مانگے۔مجھے خطرہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی پاکستانی پہل کر جائے اور یہ لوگ اس سے محروم رہ جائیں۔میرے دل میں یہ خواہش تو تھی لیکن میں اس کا اظہار نہیں کر سکتا تھا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ کسی جرمن احمدی کے دل میں خود یہ جذبہ شوق اور محبت پیدا ہو اور وہ اسے حاصل کرے۔پہلا ہاتھ جو آگے بڑھا کہ میں لینا چاہتا ہوں۔وہ ایک جرمن احمدی کا تھا۔میرا دل خوشی سے بھر گیا، یہ دیکھ کر کہ محبت کامل دل میں موجزن ہے، جس نے فوراً اس کے ہاتھ کو کہا ہے کہ آگے بڑھو۔پھر ایک پاکستانی نے اس سے کہا کہ اس کا آدھا حصہ مجھے دے دو۔اس نے کہا کہ میں نے بالکل نہیں دینا۔اگر تم نے لینا ہی ہے تو ایک دھاگا نکلا ہوا تھا، وہ اس نے نکالا اور کہا کہ یہ لے لو۔“ پھر حضور انور نے ڈنمارک کے ایک مخلص ڈینش احمدی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ڈنمارک میں ایک شخص ہے عبدالسلام میڈیسن۔وہ احمدی ہوا، اس نے اسلام کو سیکھا۔قرآن کریم کے ترجمے جو حضرت مصلح موعود نے شائع کروائے۔ان میں سے ہر ایک کو لے کر اس نے بڑے غور سے پڑھا۔پھر ڈینش زبان میں اس نے قرآن کریم کا ترجمہ کیا۔ان تراجم کی روشنی میں۔اور وہ بڑا مقبول ہوا۔ایک کمپنی نے اُس سے معاہدہ کیا اور دس ہزار شائع کیا۔جس میں سے غالباً تین چار ہزار چند مہینوں کے اندر فروخت بھی ہو چکا ہے۔کچھ رقم بطور معاوضہ کے (اس کو رائلٹی کہتے ہیں) اس کمپنی نے اس کو دی۔وہ ساری کی ساری رقم اشاعت اسلام کے لئے اس نے وقف کر دی۔ایک پیسہ نہیں لیا۔وہ دونوں میاں بیوی سکول میں کام کرتے ہیں۔ہر ایک کی قریباً ہزار ہزار روپیہ تنخواہ ہے اور ٹیکس لگ جاتا ہے ان پر قریباً ایک ہزار۔تو ایک ہزار بچتا ہے ہر دو کی تنخواہ سے۔اب جس شخص کی ایک ہزار روپیہ ماہوار آمد