تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 190 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 190

تاریخ احمدیت۔جلد 24 190 سال 1967ء کئی ہزار احمدی اس وقت انگلستان میں موجود ہیں۔ہمارے زیادہ احمدی پاکستانی ہی ہیں اور میں نے ان کو توجہ بھی دلائی ہے کہ آپ کوشش کریں کہ درجنوں کی بجائے ہزاروں لاکھوں مقامی باشندے مسلمان ہو جائیں۔وہاں کی قلبی حالت جماعت کی بہت کچھ یہاں کی جماعتوں کی قلبی حالت سے ملتی جلتی ہے۔وہاں بھی بعض انگریز نواحمدی ایثار اور اخلاص کا ایک عجیب نمونہ دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔جیسا کہ یورپ میں بسنے والے نو احمدی مسلمان پیش کر رہے ہیں۔ہر جگہ میں نے یہ محسوس کیا کہ اسلام کے دلائل نے ان کی عقلوں کو گھائل کیا۔اسلام کے حسن نے ان کی بصیرت اور بصارت کو خیرہ کیا اور ان کے دلوں میں اسقدر محبت اپنی پیدا کر دی ہے کہ اس سے زیادہ محبت تصور میں بھی نہیں آسکتی اور یہ احساس ان کے دلوں میں پایا جاتا ہے کہ آنحضرت می ﷺ کی ذات دنیا کے لئے ایک محسن اعظم کی حیثیت رکھتی ہے۔اسلام کے حسن اور آنحضرت ﷺ کے احسان کے وہ شکار ہیں اور اس کے نتیجہ میں آج وہ اتنی قربانی دینے والے ہیں کہ ( میں بعض مثالیں بیان کروں گا ) اس کی وجہ سے تم میں سے بعض کو شرم آجائے۔اتنی دور بیٹھے ہوئے کہ مرکز میں آنا جانا ان کے لئے قریباً ناممکن ہے۔کبھی ساری عمر میں ایک دفعہ آجائیں مرکز میں، تو اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے فرشتوں کو نازل کر کے ان کے دلوں میں اسقدر اور کچھ اس قسم کی تبدیلی پیدا کردی ہے کہ یہ لوگ صحابہ رضوان اللہ علیہم کے نقش قدم پر چلنے والے ہمیں نظر آتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ان کے دلوں میں محبت کا بڑا مقام ہے اور ہونا چاہیئے کیونکہ آپ نبی اکرم ﷺ کے فرزند جلیل کی حیثیت میں مبعوث ہوئے اس لئے ان کے دل میں محبت کا شدید جذ بہ پایا جاتا ہے۔“ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے حضور نے فرمایا: میں نے ہمبرگ (جرمنی) میں ایک موقع پر الیس الله بکاف عبدہ کی انگوٹھی کی برکت اور اہمیت کا تذکرہ کیا اور میں نے وہ انگوٹھی اتاری۔ان کو کہا کہ ہر ایک اس کو بوسہ دے۔خیر انہوں نے جو پیار کیا وہ تو میرے کہنے سے کیا۔جو کپڑا