تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 189 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 189

تاریخ احمدیت۔جلد 24 189 سال 1967ء رہی ہیں چنانچہ انہیں کے چندہ سے کوپن ہیگن میں خوبصورت مسجد تعمیر ہوئی۔اس سلسلہ میں حضور نے متعدد ایمان افروز واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کی تعمیر اور پھر اس کے افتتاح کے موقع پر ہر مرحلہ میں اپنی غیر معمولی تائید ونصرت کے نشان دکھائے اس کا انجینئر ایک مسلمان میسر آ گیا۔جس نے بڑے اخلاص کے ساتھ کام کیا۔جب اس کا افتتاح ہوا تو صبح سے لے کر رات کے ڈیڑھ بجے تک لوگ آکر اسے دیکھتے رہے اور اس کی تصویر میں لیتے رہے۔افتتاح کے دن اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رزاقیت کا یوں نظارہ دکھایا کہ سوا سور اشخاص کے لئے جو کھانا تیار کیا تھا۔وہ کم و بیش تین صد نے کھایا اور پھر بھی بیچ رہا۔حضور نے اس امر پر بہت خوشی کا اظہار فرمایا کہ وہاں پر جو یورپین اسلام قبول کر رہے ہیں۔وہ اپنے ایمان و عرفان میں بڑی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔وہاں کی نو مسلم بہنیں اسلامی احکام پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔انہوں نے ہمارے لئے کھانا تیار کرنے کا سارا کام اپنے ذمہ لے لیا تا کہ جماعت پر خرچ کا زیادہ بار نہ ہو اور پھر اس خدمت کو انہوں نے بڑی ہی بشاشت اور اخلاص کے ساتھ نبھایا۔حضور نے فرمایا آپ تصور بھی نہیں کر سکتیں کہ یورپ کی احمدی نومسلم خواتین وہاں کے نہایت گندے اور حیا سوز ماحول میں رہنے کے باوجود اسلامی اخلاق اور اسلامی عفت و حیا کا کتنا شاندار نمونہ پیش کر رہی ہیں۔جبکہ ہمارے ملک کی بعض عورتیں مغربی فضا سے متاثر ہوکر بے حیائی کی طرف مائل ہو رہی ہیں۔آخر میں حضور نے اس امر پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی روحانی تربیت کا جو عظیم الشان کام ہمارے سپر د کیا ہے۔اس کا یہ تقاضا ہے کہ ہم قربانیوں میں اور اسلامی احکام پر عمل کرنے میں دوسرے ممالک کے لئے ہمیشہ نمونہ بنے رہیں۔یورپ کے نومسلم احمدیوں کے ایمان واخلاص کا روح پرور تذکرہ سیدنا حضرت خلیفہ امسح الثالث نے یکم ستمبر ۱۹۶۷ء کے خطبہ جمعہ میں یورپ کے نومسلم احمد یوں کے اخلاص کا نہایت ایمان افروز تذکرہ فرمایا اور بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایمان میں بہت ترقی کر رہے ہیں اور ان کے دلوں سے خدا اور محمد مصطفی میں اللہ کی محبت پھوٹ پھوٹ کر بہتی ہوئی ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔چنانچہ حضور نے فرمایا:۔