تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 2
تاریخ احمدیت۔جلد 24 2 سال 1967ء حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کا معتکفین سے خطاب سید نا حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ابتدائے خلافت ہی سے جماعت کے ہر طبقہ کی رہنمائی میں سرگرم عمل تھے۔اس سلسلہ میں حضور نے ۹ تا ۱ جنوری ۱۹۶۷ء کونماز فجر کے بعد مسجد مبارک میں موجود احباب جماعت سے بالعموم اور معتکفین سے بالخصوص خطاب فرمایا اور اپنی زریں ہدایات سے نوازا۔جن کا خلاصہ یہ تھا کہ اعمال کی بنیاد تقویٰ پر رکھو اور ان پر کبھی فخر نہ کرو بلکہ یہ فکر کرو کہ وہ بارگاہ ایزدی میں بھی قبول ہو جائیں۔جنوری کو حضور نے بعد نماز فجر ودرس معتکفین کو مصالح سے بھی مشرف فرمایا۔اسی دن رمضان المبارک کی ۲۹ تاریخ کو حضور انور نے نماز عصر کے بعد آخری تین سورتوں کا درس دیا اور اجتماعی دعا کروائی۔دفتر فضل عمر فاؤنڈیشن کا افتتاح ۱۵ جنوری ۱۹۶۷ء کو سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث نے ایک نہایت مؤثر ، سادہ اور پُر وقار تقریب میں فضل عمر فاؤنڈیشن کی نو تعمیر شدہ عمارت کا اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا کے ساتھ افتتاح فرمایا۔حضور نے احباب کو اس موقع پر ایک بصیرت افروز خطاب سے بھی نوازا۔جس میں حضور نے فضل عمر فاؤنڈیشن کے قیام کے اغراض و مقاصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دنیا کو فائدہ پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ اونچے اونچے پہاڑوں پر برف کی شکل میں پانی نازل کرتا رہتا ہے جہاں سے سال بھر اور ہر زمانہ میں دنیا کو پانی ملتا رہتا ہے۔بعض پہاڑوں کی ساری برف کچھ عرصہ بعد پگھل جاتی ہے اور وہاں سے دنیا کو پانی ملنا بند ہو جاتا ہے اور بعض پہاڑوں کی چوٹیوں پر سارا سال برف جمع رہتی ہے اور وہاں سے بہنے والے پانی سے دنیا سارا سال فائدہ اٹھاتی رہتی ہے۔حضور انور نے فرمایا که بالکل اسی طرح روحانی دنیا کا حال ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو انبیاءعلیھم السلام مبعوث ہوئے ان کی مثال ان پہاڑوں کی مانند تھی جن پر کچھ عرصہ تک آسمانی پانی موجود رہتا ہے اور دنیا اس پانی سے فائدہ اٹھاتی ہے اور پھر ایک زمانہ ایسا آتا ہے کہ وہ پہاڑ آسمانی پانی سے خالی ہو جاتے ہیں اور ان انبیاء کی امتوں کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے۔روحانی دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس بلند وارفع پہاڑ کی مانند ہیں جس کی چوٹی پر سارا سال برف رہتی ہے اور اس سے بہنے والا پانی ہمیشہ دنیا کو