تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 3 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 3

تاریخ احمدیت۔جلد 24 3 سال 1967ء فائدہ پہنچاتا رہتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا جانے والا پانی الہی فیصلہ کے مطابق کبھی خشک نہ ہوگا اور بنی نوع انسان کو ہمیشہ سیراب کرتا رہے گا۔اس روحانی دریا سے آگے بہت سے ایسے نالے نکلے جنہوں نے تمہیں تمھیں ، چالیس چالیس سال تک اور بعض نے سوسال تک اپنے علاقے کو سیراب کیا اور پھر ایک بڑا دریا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کی برف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صورت نکلا۔اور اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ اب اس چوٹی سے نکلنے والے پانی اس دریا میں اکھٹے ہو کر بہتے ہوئے قیامت تک دنیا کو سیراب کرتے رہیں گے۔حضور نے فرمایا کہ اس دریا کے پانی کے صحیح استعمال کے لئے خلیفہ وقت ایک بند باندھ رہا ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے اس دریا کا سارا پانی سمیٹ کر ایک بڑی نہر کی شکل میں جاری کیا جو قیامت تک چلتی چلی جائے گی یہاں تک کہ ابد کے سمندر میں مل کر اس میں گم ہو جائے گی۔ہمیں اس نہر پر وقفہ وقفہ پر ، کچھ کچھ فاصلہ پر اور زمانہ زمانہ کے بعد اس پر ڈیم بنانے کی ضرورت ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے روحانی روشنی اور بجلی پیدا ہو کر دنیا کو مختلف رنگوں میں سیراب کرے۔حضور انور نے فرمایا فضل عمر فاؤنڈیشن بھی ایک بند ہے جو بڑے دریا سے لیے گئے پانی کو محفوظ رکھنے اور اس سے انسان کو فائدہ پہنچانے ، اور اس کے منبع سے آگاہ کرنے کے لئے ہے جس سے وہ پانی نکلا۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود اور پھر خدا تعالیٰ کی ہستی کا عرفان حاصل کر کے اس کی رحمتوں برکتوں کو حاصل کریں جو وہ بندوں کو دینا چاہتا ہے۔جس طرح بند بنانے والوں کے لئے ایک کالونی بنا کر کالونی کے لوگوں کو مختلف سہولتیں پہنچائی جاتی ہیں یہ بھی ایک کالونی ہے لیکن اس میں مخفی اصل چیز روحانی نور بجلی اور برقی طاقت ہے۔جسے ایک عظمند انسان حاصل کر کے نہ صرف خود فائدہ اٹھاتا ہے بلکہ دنیا کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔حضور نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ فاؤنڈیشن کے کارکنوں کے ذہنوں میں جلا پیدا کرے خودان کو وہ راہیں دکھلائے جن پر چل کر وہ فاؤنڈیشن کے مقاصد کو حاصل کر سکیں۔ان کی کوششوں میں برکت ڈالے، بہترین نتائج پیدا فرمائے اور اطراف عالم میں فیوض اسلام، اسکی تعلیم پہنچانے میں، جو حضرت مصلح موعود نے قرآن کریم کے نور سے اخذ کر کے ہمیں دی ہے اور ہمارے سینوں ذہنوں ، دلوں کو منور کیا ہے، یہ فاؤنڈیشن بھی حصہ دار ہو۔حضور نے عمارت کا افتتاح فرمانے کے بعد اُس مشاورتی اجلاس کا بھی دعا کے ساتھ افتتاح