تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 180 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 180

تاریخ احمدیت۔جلد 24 180 سال 1967ء کندھے سے کندھا ملا ہوا ہے اور میں مسجد کے دروازہ تک نہیں پہنچ سکتا بعد میں تین چار رضا کار آئے انہوں نے بڑی مشکل سے رستہ بنایا تب میں مسجد میں پہنچا۔آنے والوں میں بڑے بڑے لوگ بھی تھے جن کی طرف اس وقت ہماری توجہ بھی نہ ہوئی۔خود ہی وہ افتتاح کی تقریب میں شامل ہوئے اور پھر واپس چلے گئے۔ان لوگوں میں ہمارے علاقہ کا لارڈ میئر بھی تھا جو بڑا شریف انسان ہے اور جماعت کے دوستوں کے ساتھ تعلق بھی رکھتا ہے۔ہمارے ملک میں تو رواج نہیں وہاں یہ رواج ہے کہ اگر کوئی آدمی جس کو وہ بڑا سمجھیں ان کے ملک میں آجائے تو وہ اسے رسیو کرتے ہیں RECEPTION دیتے ہیں اور یہ ایک فارمل سی چیز ہے پندرہ منٹ کے قریب عرصہ کے لئے یہ تقریب منائی جاتی ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ ہم اس شخص کو اپنے میں شامل کر رہے ہیں اور یہ اس شخص کے لئے احترام اور عزت کا ایک مظاہرہ ہوتا ہے۔چنانچہ افتتاح سے دوسرے روز انہوں نے میرے اعزاز میں ریسیپشن دی تو وہاں انہوں نے مجھے بتایا کہ میں بھی افتتاح کے موقعہ پر موجود تھا حالانکہ ہم میں سے کسی نے بھی انہیں نہیں دیکھا۔چنانچہ معذرت کی گئی کہ لوگ چونکہ بڑی تعداد میں جمع تھے اس لئے ہم نے آپ کو دیکھا نہیں۔“ فرینکفورٹ کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: 66 وہاں ایک مختصرسی ریسیپشن ہوئی اور اگلے دن ہم نے دیکھا کہ وہاں کے ہر اخبار نے رپورٹ شائع کی ہوئی ہے۔بڑے اچھے نوٹ دیئے تھے اور تصویریں بھی دی تھیں۔مجھے قطعاً امید نہیں تھی کہ کوئی ایک اخبار بھی تصویر کے ساتھ خبر شائع کرے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ وہاں بھی ہمارے متعلق خبریں شائع ہو گئیں اور اسلام کا پیغام قریباً ہر شخص کے کان تک پہنچ گیا۔“ پھر ایک بڑے ایمان افروز واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: زیورک پہنچے تو وہاں پہلی پر یس کا نفرنس ہوئی۔وہاں ایک اخبار بہت پائے کا ہے اس کے متعلق ہمارے مبلغ چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کی رپورٹ ہے کہ یہ ہمیشہ اسلام کے خلاف لکھتا ہے لیکن جب میں اس کی تردید کرتا ہوں تو یہ اسے