تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 181 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 181

تاریخ احمدیت۔جلد 24 181 سال 1967ء شائع نہیں کرتا۔ہمارے خلاف لکھتا چلا جاتا ہے لیکن تردید میں ایک لفظ بھی شائع نہیں کرتا اور پتہ نہیں اس کا نمائندہ پر یس کا نفرنس میں آتا ہے یا نہیں۔پہلی کا نفرنس تھی اور وہ بڑے ڈرے ہوئے تھے کہ پتہ نہیں پریس والے کیا کرتے ہیں۔لیکن ہوا یہ کہ سب اخباروں کے نمائندے آئے اور نہایت آرام کے ساتھ سوا گھنٹے کے قریب پر یس کا نفرنس جاری رہی۔وہ لوگ سوال کرتے رہے اور میں ان کو جواب دیتا رہا۔بعض دفعہ وہ سیاسی سوال بھی کر دیتے تھے اور میں انہیں کہہ دیتا تھا کہ میں سیاسی آدمی نہیں ہوں آپ مجھ سے مذہب کی باتیں کریں۔اس اخبار کا نمائندہ جو اسلام کے خلاف لکھتا رہتا تھا اور اس کے حق میں اس نے کبھی کوئی لفظ نہیں لکھا تھا ایک نوجوان تھا اُس کو مجھ سے دلچسپی پیدا ہوئی۔اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے اس کے دل کی تاروں کو ہلایا۔پریس کانفرنس ختم ہوگئی لیکن وہ نو جوان اس کے بعد بھی پندرہ منٹ کے قریب مجھ سے باتیں کرتا رہا۔آخر میں اس نے کہا کہ میں آپ سے ایک آخری سوال پوچھنا چاہتا ہوں آپ مجھے بتائیں کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بانی کی بعثت کا مقصد کیا ہے۔میں نے اس سے کہا کہ آپ کی بعثت کا مقصد تمہیں اپنے الفاظ میں کیوں بتاؤں، میں بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے الفاظ میں ہی تمہیں بتاتا ہوں کہ ان کی بعثت کا مقصد کیا تھا ، آپ نے لکھا ہے کہ میں دلائل کے ساتھ اس صلیب کو توڑنے کے لئے آیا ہوں جس نے مسیح کی ہڈیوں کو توڑا اور اس کے جسم کو زخمی کیا۔وہ نوجوان اچھل پڑا اور کہنے لگا کہ مجھے حوالہ چاہئے۔اب وہ شخص تو احمدی نہیں تھا اسے کیا غرض تھی کہ وہ اس حوالہ کو شائع کرتا۔لیکن اس نے کہا مجھے اصل حوالہ چاہیئے۔اب دیکھو خدائے علام الغیوب کو تو پتہ تھا کہ اس حوالہ کا مطالبہ ہونا ہے۔میں نے یہاں مضمون لکھنے شروع کئے تو میں نے بعض حوالے نکلوائے تھے بعد میں ، میں نے مضمون تو تیار نہ کئے اور نہ میں تیار کر سکا کیونکہ میری طبیعت میں انقباض پیدا ہو گیا تھا۔لیکن میں نے چوہدری محمد علی صاحب سے کہا کہ یہ حوالے ساتھ رکھ لیں۔شائد وہاں کام آئیں۔ان حوالوں میں وہ حوالہ بھی تھا اور پھر وہ اردو میں بھی نہیں تھا بلکہ اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ہوا تھا۔میں نے وہ حوالہ منگوایا اور اس نوجوان کے ہاتھ