تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 179 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 179

تاریخ احمدیت۔جلد 24 179 سال 1967ء " جس وقت ہم یورپ گئے اس وقت ہمارا یہ راستہ تھا۔پہلے فرینکفورٹ پھر زیورک پھر ہیگ پھر ہیمبرگ پھر کوپن ہیگن اور پھر لنڈن اور گلاسگو۔زیورک میں ایک دن صبح میری آنکھ کھلی تو میری زبان پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام تھا۔مُبَارِک وَمُبَارَكٌ وَكُلُّ أَمْرٍ مُبَارَكِ يُجْعَلُ فِيْهِ یہ الہام اخبار الفضل میں بھی چھپ چکا ہے۔اس سے دوسرے دن تین بجے کے قریب میری آنکھ کھلی اور میری زبان پر قرآن کریم کی ایک آیت تھی اور ساتھ ہی مجھے اس کی ایک ایسی تعبیر بھی بتائی گئی جو بظاہر انسان ان الفاظ سے نہیں نکال سکتا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ تعبیر مجھے اللہ تعالیٰ نے ہی سکھلائی تھی۔کوپن ہیگن میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے پیارے نظارے دیکھے اور لوگوں میں اس قدر رجوع تھا کہ وہاں بڑی تعداد میں آرہے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ ان لوگوں کو کچھ پتہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور فرشتے ان کو دھکے دے کر لا رہے ہیں۔مثلاً عیسائی بچے جو دس سال اور پندرہ سولہ سال کے درمیان عمر کے تھے، مسجد میں آجاتے تھے اور ہمارے ساتھ نماز میں شریک ہوتے تھے۔ان کی تعداد کوئی چالیس پچاس ہو گی جو مختلف وقتوں میں آئے۔پھر وہ بچے صرف فرائض میں ہی شامل نہیں ہوتے تھے کہ ہم سمجھیں کہ وہ عجوبہ سمجھ کر ایسا کرتے تھے بلکہ مغرب وعشاء کی نمازیں جمع ہوتی تھیں اور بعد میں ہم وتر ادا کرتے تھے تو دس دس بارہ بارہ سال کی بعض لڑکیاں ہماری احمدی مستورات کے ساتھ وتر بھی پڑھ کے جایا کرتی تھیں۔ایک دن ہم میں سے کسی نے انہیں کہا کہ تمہارے ماں باپ کو پتہ لگ گیا تو وہ تمہیں ماریں گے تو وہ کہنے لگیں نہیں ، ان کو پتہ ہے کہ ہم یہاں آتی ہیں۔غرض صبح سے لے کر شام تک ایک تانتا سا بندھا رہتا تھا، لوگ آرہے ہیں مسجد کو دیکھنے کے لئے اور واپس جارہے ہیں۔ایک دن چوہدری محمد علی صاحب کی آنکھ رات کے ڈیڑھ بجے کھلی اور وہ اپنے کمرے سے باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد کی تصویر لے رہا ہے، رات کو ڈیڑھ بجے وہ مسجد کی تصویر لے رہا تھا۔جمعہ کے روز افتتاح کے وقت لوگ اتنی کثرت سے آئے کہ جب میں گھر سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ لوگ کثرت سے آئے ہوئے ہیں اور