تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 172
تاریخ احمدیت۔جلد 24 172 سال 1967ء کرتے بلکہ نہایت محبت، نہایت تحمل اور نہایت دل آویزی اور شیرینی سے گفتگو فرماتے تھے جو دلوں میں اُترتی چلی جاتی تھی اور اسلام کے حسین چہرے پر صدیوں کے پڑے ہوئے جہالت اور دروغ کے پردوں کو چاک کرتی چلی جاتی تھی۔اور وہ لوگ حضور کے وقار، جلال اور حسن اور شیرینی کا ذکر کئے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔مکرم چوہدری محمد علی صاحب مزید تحریر کرتے ہیں کہ سفر کا ایک اور ا ہم تاثر یہ ہے کہ حضور کو جماعت سے بے پناہ محبت ہے۔اگر چہ جماعت کو بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضور کی ذات سے محبت اور عشق ہے لیکن ہماری محبت اس عظیم محبت کا حقیر سا بدل بھی نہیں جو حضور کو ہم سے ہے۔اور ہمارے پاس اپنے پیارے آقا کے حضور پیش کرنے کے لئے سوائے خلوص اور محبت اور عشق کے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی دین ہے اور ہے ہی کیا۔حضور کو جماعت کے ہر چھوٹے اور ہر بڑے اور ہر کامل اور ناقص سے ماں باپ سے بڑھ کر محبت ہے۔اور خدا جانتا ہے کہ میں اس میں ذرہ بھر بھی مبالغہ نہیں کر رہا۔چنانچہ احباب جماعت سے اس محبت کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا کہ :۔ایک دوست لندن میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔جب ملاقات کے کمرے سے باہر نکلے تو پہلے تو اپنی کیفیت چھپانے کے لئے میرے کمرے کی طرف لپکے لیکن وہاں کچھ مستورات ملاقات کے لئے انتظار کر رہی تھیں۔وہ وہاں سے بھی تیزی سے ایک اور کمرے میں بھاگ کر پہنچے۔اُن کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔پھوٹ پھوٹ کر زار و قطار رورہے تھے۔اس کمرے میں میں بھی موجود تھا۔مجھے کچھ حجاب ہوا اور میں وہاں سے جانے لگا تو مجھے چمٹ گئے اور کہنے لگے کہ چوہدری صاحب میں اتنے عرصے سے منتظر تھا کہ حضور ایک بار تو میری غلطی پر مجھے پوچھتے لیکن انہوں نے تو چہرے سے بھی کوئی اظہار نہیں فرمایا اور مجھے سینے سے لگا لیا۔یہی کیفیت یورپ کے مختلف ممالک میں رہی حضور کی محبت اور شفقت کی وسعتوں کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔کراچی آکر خود حضور نے اس راز سے کچھ پردہ اُٹھایا فرمایا ہر احمدی سونے کی طرح ہوتا ہے اگر سونے کو کوئی گند لگ جائے تو اسے پھینک نہیں دیتے بلکہ اُسے صاف اور پاک کرتے ہیں اور اس کی حفاظت کرتے ہیں۔“ پھر تحریر فرماتے ہیں کہ اس سفر کے دوران ایک تجربہ جو بار بار ہواوہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور پُر نور کی زبان پر ایسے ایسے مضامین جاری کئے جو یورپ کے رہنے والوں کے دل میں اپنی پوری تاثیر کے ساتھ جاگزیں