تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 173
تاریخ احمدیت۔جلد 24 173 سال 1967ء ہو گئے اور انہوں نے انہیں توجہ سے سنا۔حالانکہ اس سے قبل ہم میں سے بعض کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ اگر حضور کی انذاری تقاریر یورپ والوں تک پہنچیں تو شاید اُن پر صحیح قسم کا اثر نہ ہو۔لیکن ہوا یہ کہ جہاں بھی حضور نے اہلِ یورپ کو آنے والے خطرات اور عذابوں سے خبر دار کیا اس کا خاص اثر ہوا۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضور کے دل میں بنی نوع انسان کے لئے کتنی ہمدردی ہے۔یورپ اس وقت ایک ایسے کوہ آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اہلِ مغرب کو خبردار کریں کہ وہ اس وقت موت کے منہ میں کھڑے ہیں اور انہیں بتائیں کہ اگر انہوں نے اسلام قبول نہ کیا تو تباہ ہو جائیں گے۔ان لوگوں کو اب خود بھی اس عظیم تباہی کا احساس ہو چکا ہے اس لئے حضور نے ایک جھٹکے اور دھکے سے بیدار کرنے والے انذاری رنگ میں مغرب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی انذاری پیشگوئیوں سے روشناس کرایا۔تقریباً سب نے علی قدر مراتب اس انذار کو سُنا اور اس پر غور کیا۔وانڈ زورتھ کے میئر نے تو لفظا کہا کہ ہم اس انذار کے مستحق ہیں۔766 حضور کو اہل مغرب کے اس متوقع انجام کا بے حد غم ہے۔ایک دفعہ کہیں تشریف لے جار ہے تھے راستے میں زیر لب اپنے آپ سے فرمایا جو اس عاجز نے سُنا کہ افسوس کہ یہ سب کچھ تباہ ہو جائے گا، اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور تباہی سے پہلے پہلے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور سایہ عاطفت میں جگہ دے۔(۲) جناب بشیر احمد رفیق خان صاحب ان دنوں مسجد فضل لندن کے امام تھے۔اس حوالہ سے حضور کے انگلستان میں وردود اور مصروفیات سے متعلق ان کے رقم فرمودہ ذاتی تاثرات ایک چشم دید شہادت کا درجہ رکھتے ہیں۔وہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضور انور کا خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد یہ پہلا دورہ غیر ممالک تھا۔انگلستان میں احمدی احباب کی ایک کثیر تعداد موجود ہے انہوں نے حضور اقدس کو خلافت سے قبل نہ صرف دیکھا ہوا تھا بلکہ بہت ساروں کو حضور کی شاگردی کا بھی شرف حاصل تھا۔حضور اقدس مورخہ ۲۶ جولائی ۱۹۶۷ء کو لندن ایئر پورٹ پر تشریف لائے۔ہزاروں کی تعداد میں احمدی احباب ایئر پورٹ پر استقبال کیلئے جمع تھے۔ایئر پورٹ کی تاریخ میں غالباً اتنی کثرت اور جوش سے نعرہ ہائے تکبیر بلند نہ کئے گئے ہوں گے۔جتنے حضور کی تشریف آوری کے موقع پر بلند کئے گئے۔