تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 164 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 164

تاریخ احمدیت۔جلد 24 164 سال 1967ء پر دست شفقت پھیرا اور خواتین کو السلام علیکم کہا۔اور سب کے لئے دعا فرمائی۔کئی احباب سے اُن کا حال خاص طور پر دریافت فرمایا۔عام طور پر سٹیشنوں پر نعروں کی ممانعت تھی مگر لائکورٹیشن پر اتنے احباب جمع ہو چکے تھے کہ ریل کے ٹھہرنے کے وقت میں سارے احباب سے مصافحہ ممکن نہ تھا۔اس لئے منتظمین نے دوستوں کو مصافحے کے لئے بڑھنے سے روک رکھا تھا۔حضور انور کے ریل کے دروازہ میں آنے پر احباب نے پُر جوش نعروں سے حضور کا استقبال کیا اور کافی دیر تک اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان ہوتا رہا۔احباب کے چہرے بتارہے تھے کہ نظام کی پابندی اور وقت کی تنگی سے وہ مجبور ہیں۔خلوص ، عقیدت اور شیفتگی ان کے چہروں سے پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی تھی۔جماعتوں کی نمائندگی میں صرف محترم شیخ محمد احمد صاحب مظہر امیر جماعت نے مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔احباب لا کپور نے قافلہ کے لئے چائے کا انتظام بھی فرمایا تھا۔لائلپور میں احباب ربوہ کا ایک گروپ اور بعض لا ہور وغیرہ کے احباب جماعت بھی موجود تھے۔اب لمحہ بہ لمحہ ربوہ قریب آ رہا تھا۔حضرت خلیفہ مسیح کا تمتما تا ہوا چہرہ بتا رہا تھا کہ ربوہ پہنچنے کی آپ کو خاص خوشی ہو رہی ہے۔چک جھمرہ، بُرج اور چنیوٹ کے سٹیشنوں پر احباب کو شرفِ زیارت 66 حاصل ہوا۔12 ربوہ میں شاندار استقبال اور چراغاں حضور انور کی ربوہ آمد سے قبل ہی اہل وفائے ربوہ کے علاوہ مظفر آباد،ایبٹ آباد، واہ کینٹ، اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، چکوال، دوالمیال، میانوالی، گجرات، کھاریاں، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ ، اوکاڑہ، شیخوپورہ لاہور ، جھنگ، سرگودھا اور بیسیوں دوسرے شہری اور دیہی مقامات کے امراء جماعت اور احباب بہت کثیر تعداد میں ربوہ پہنچ چکے تھے۔بہت سے مخلصین تو عین وقت پر موٹر کاروں کے ذریعہ ربوہ پہنچے۔یہ سب احباب ایک خاص نظام کے ماتحت ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم پر نیز ریلوے سٹیشن سے لے کر قصر خلافت تک کے پون میل لمبے راستے پر دورویہ قطاروں میں کھڑے ہوئے حضور کی تشریف آوری کے انتظار میں چشم براہ تھے۔یہ سارا راستہ جھنڈیوں اور آرائشی محرابوں اور بجلی کے رنگ برنگ کے قمقموں سے دُلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔