تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 163 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 163

تاریخ احمدیت۔جلد 24 163 سال 1967ء دوڑتی نظر آتی تھی۔روہڑی اور اس کے بعد کے سٹیشنوں پر احمدی بہنیں بھی خاص تعداد میں اپنے امام کو خوش آمدید کہنے اور دعا کی درخواست کرنے کے لئے حاضر تھیں۔پردہ کی پوری رعایت کے ساتھ وہ حضور کی خدمت میں سلام عرض کرتیں اور درخواست دعا کرتیں۔ننھے بچوں کی بھی کافی تعداد ساتھ ہوتی تھی۔یہ ایمان پر ور عقیدت کا نظارہ پیش کرنا اہلِ ایمان کا ہی خاصہ ہے۔رحیم یار خان اور خان پور کے اسٹیشنوں پر بھی امراء اور مربیان سلسلہ کی قیادت میں احباب کا جم غفیر حاضر تھا اور سب کے چہروں سے بشاشت ٹپک ٹپک کر نمایاں ہورہی تھی۔رحیم یار خاں کی جماعت نے حضور کے سارے قافلے کے لئے ناشتے کا انتظام کیا تھا۔رات کے کھانے کا اہتمام احباب کراچی نے کر دیا تھا۔بہاولپور، ڈیرہ نواب لیاقت آباد ہر جگہ قرب و جوار کی جماعتیں حضرت امام ہمام کی زیارت کے لئے جمع تھیں حضور ہر سٹیشن پر احباب کے ملنے کے لئے گاڑی سے باہر تشریف لاتے اور جملہ احباب سے ملاقات فرماتے سمہ سٹہ اور لودھراں میں بھی کثیر تعداد میں احباب جماعت موجود تھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہر جگہ احمدی ہی احمدی ہیں۔ریل کے دوسرے مسافر بھی ہر جگہ تعجب اور پیار کی نگاہوں سے حضور کو دیکھتے تھے۔اور احباب سے استفسار کرتے تھے۔اخباری نمائندے بھی کئی مقامات پر آتے رہے۔ملتان چھاؤنی پر امیر جماعت اور مربی سلسلہ کی قیادت میں احباب بہت بڑی تعداد میں موجود تھے۔حضور انور نے سب سے مصافحہ فرمایا اور احباب کی کثرت کے باعث حضور نے اخباری نمائندوں سے معذرت فرما دی۔البتہ ان کو سفر کے بارے میں مکرم چوہدری محمد علی صاحب پرائیویٹ سیکرٹری سے معلومات حاصل ہو گئیں۔دو پہر کا کھاناملتان نے پیش کیا۔جزاهم الله خيراً خانیوال میں بھی عشاق کا جم غفیر محو انتظار تھا۔ہجوم کو قابو میں رکھنا مشکل ہورہا تھا۔بعض جگہ نوجوان منتظمین غلطی کرتے اور احباب کو جو جوش محبت میں آگے بڑھتے تھے، ہاتھ سے روکتے۔میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ اس انداز انتظام سے حضور انور کو بہت تکلیف ہوتی اور حضور اسے برداشت نہ کر سکتے کہ کسی احمدی کو ہاتھ کے زور سے روکا جائے۔خانیوال کے سٹیشن پر حضور نے ایک منتظم کو اسی سلسلہ میں پُر زور منع فرمایا۔جس سے وہ مُرجھا سا گیا۔مگر جو نہی سب سے مصافحہ ہو گیا حضور نے اس عزیز سے بھی پیار سے مصافحہ فرمایا اور اس کی شادمانی کا سامان کر دیا۔عبدالحکیم، شورکوٹ ، ٹو بہ ٹیک سنگھ، گوجرہ کے سٹیشنوں پر بھی احباب کی بڑی تعداد، جو مردوں، عورتوں اور بچوں پر مشتمل تھی ، اپنے امام کو ایک نظر دیکھنے کے لئے چشم براہ تھی۔حضور نے سب مردوں سے مصافحہ فرمایا۔بچوں کے سروں