تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 158
تاریخ احمدیت۔جلد 24 158 سال 1967ء مشتر کہ پروگرام تیار کیا جا سکے۔اپنے دورے کے متعلق انہوں نے کہا کہ دنیا میں مسلمانوں کے خلاف ایک مہم شروع ہو چکی ہے اور اس کا مقابلہ زیادہ سے زیادہ مشن غیر ممالک کو بھیج کر کیا جا سکتا ہے۔ایک اجلاس عام میں شرکت 137 پریس کانفرنس کے بعد حضور نے اسی دن خدام الاحمدیہ کراچی کے زیر اہتمام ایک اجلاس عام میں خطاب فرمایا۔جس میں سفر یورپ کے دوران خدا تعالیٰ کی غیر معمولی تائید ونصرت کے ایمان افروز واقعات بیان فرمائے۔آپ نے فرمایا کہ: دوران سفر ہم نے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے ایسے جلوے دیکھے جن کا تصور کرنا بھی ممکن نہ تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فرشتے نازل ہو کر ہماری تائید کر رہے ہیں۔یورپ کے لوگوں نے بہت تعاون اور محبت کا اظہار کیا۔گفتگو کے اچھے مواقع میسر آئے۔مشہور اخباروں نے تصاویر کے ساتھ خبر میں نمایاں طور پر شائع کیں بارہ پادریوں پر مشتمل ایک وفد نے کئی گھنٹے مجھ سے تبادلہ خیال کیا اور مجھے ان تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا موقعہ ملا۔کوپن ہیگن میں مسجد دیکھنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔میں نے قریباً ہر جگہ اہل یورپ کو انتباہ کیا کہ دنیا میں دوسنتا ہیاں آچکی ہیں۔تیسری بڑی تباہی سر پر کھڑی ہے اس تباہی سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کریں اور اسلام قبول کر لیں۔“ مخلصین جماعت ربوہ تک عقیدت و محبت کے بے مثال نظارے ۲۳ اگست کی شام کو حضور بذریعہ چناب ایکسپریس ربوہ کے لیے روانہ ہوئے کثیر تعداد میں کراچی شہر کے اسٹیشن پر اپنے محبوب امام کو الوداع کہنے کے لیے موجود تھے۔روانگی سے قبل حضور کے ارشاد پر مولانا عبد المالک خانصاحب مربی کراچی نے احباب سے درج ذیل دعا بلند آواز سے دھرائی، جو سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپسی پر پڑھا کرتے تھے۔ائِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ۔(ترجمہ: ہم اللہ تعالیٰ کی درگاہ کی طرف لوٹنے والے، تو بہ کرنے والے اسکی عبادت کرنے والے اور اسکی حمد کرنے والے ہیں۔)