تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 143
تاریخ احمدیت۔جلد 24 143 سال 1967ء کوپن ہیگن میں احمدی عورتوں نے کہا کہ جماعت کا خرچ بچانا چاہئے ہم خود کام کریں گی۔چنانچہ وہ صبح ناشتہ کے وقت سے رات کے بارہ بجے تک کام کرتیں۔۲۵ ،۳۰ افراد کا کھانا تیار کرتیں۔یہ ایک بڑی تعداد ہے ان ممالک کے لحاظ سے۔یہاں ہمارے لحاظ سے شائد نہ ہو۔وہ ہر وقت مسکراتے ہوئے خوشی خوشی یہ کام سرانجام دیتیں۔اس وجہ سے کہ وہ احمدیت کی بدولت ایک رشتہ اخوت میں منسلک تھیں۔خطاب کے دوسرے حصے میں حضور نے اسلام کی قائم کردہ عظیم الشان بین الاقوامی انسانی برادری کا تذکرہ کیا۔پھر قرآنی تعلیم کے ذریعہ دُنیا میں امن وسلامتی کا معاشرہ قائم کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن نے جو پُر حکمت تعلیمات دی ہیں۔اُن کا ذکر نہایت وجد آفریں انداز میں فرمایا۔مثلاً ہر مذہب کی عبادت گاہ کی حفاظت کی جائے۔مذہبی گفتگو ایسا رنگ اختیار نہ کرے جس سے دوسرے مذہب کے پیروکار کو تکلیف ہو۔اسلام نے انسان کی جان، مال اور عزت کی ضمانت دی ہے اور فرمایا کہ جو شخص کسی کو قتل کرتا ہے گویا اس نے ساری دنیا کو قتل کر دیا ہے۔اسلام غاصب کا نہیں مظلوم کا ساتھ دیتا ہے۔اسلام تعلیم دیتا ہے کہ کسی کی غیبت نہ کرو۔اگر کسی کی معیوب بات سامنے آئے تو بھی مجلس میں بیان نہ کرو کسی کی طرف ایسی بات منسوب نہ کرو۔جو اس نے نہ کہی ہو۔کسی کے خلاف بدظنی نہ کرو۔اسلامی تعلیم یہ ہے کہ انسان کسی کو حقیر نہ سمجھے بلکہ سب سے کمتر اور حقیر اپنے کو ہی سمجھے۔تکبر کے خلاف اسلام نے علم بلند کیا ہے۔اگر ہر شخص اپنے آپ کو دوسروں سے حقیر سمجھے تو جولڑائیاں ہوتی ہیں ختم ہو جا ئیں۔آخر میں حضور نے احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ جو اس علاقہ میں رہتے ہیں۔جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں دوست رہتے ہیں۔آپ کو ایسا نمونہ دکھانا چاہئے کہ جس سے ثابت ہو جائے کہ اسلام دوسروں سے نفرت و حقارت کو نا پسند کرتا ہے۔دنیا نمونہ کی محتاج ہے۔اسی صورت میں آپ اسلام کے سب سے بڑے مبلغ ٹھہریں گے۔اگر آپ اس تعلیم کے مطابق عمل کریں گے۔تو پھر ہی حقیقی احمدی کہلائیں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اور مجھے بھی حقیقی احمدی بنے کی توفیق عطا فرمادے۔اس جلسہ میں احمدی احباب کے علاوہ بعض ایسے ہندو اور سکھ حضرات نے بھی شرکت کی جو ساؤتھ آل میں مستقل طور پر رہائش پذیر تھے۔